
حیدرآباد ، 16 جون (ہ س)۔
اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن کوراجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد کانگریس ہائی کمان نے نئی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پارٹی ہائی کمان نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ تلنگانہ سے مینا کشی نٹراجن کو راجیہ سبھا کیلئے نامزدکرنے کے طریقہ کارکاتعین کریں۔ تلنگانہ میں فی الوقت راجیہ سبھاکی کوئی نشست خالی نہیں ہے، ایسے میں میناکشی نٹراجن کوراجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کیلئے کسی موجودہ رکن کا استعفیٰ حاصل کرناہوگا۔ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کے مسترد کئے جانے کے پس پردہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہرکئے جارہے ہیں۔ بی آرایس نے میناکشی نٹراجن کی شکست کیلئے وزیراعلی ریونت ریڈی کو ذمہ دار قراردیا ہے۔ حکومت اورتلنگانہ کانگریس پارٹی پرمنفی اثرات کو روکنے کیلئے میناکشی نٹراجن کو تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کی حکمت عملی طئے کی جارہی ہے۔وزیراعلی کے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر ہائی کمان نے یہ تجویزپیش کی جس پرریونت ریڈی اپنے بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ راجیہ سبھا کے جن ارکان کے استعفیٰ پر غورکیاجارہا ہے،ان میں وی نریندر ریڈی اورانیل کماریادو شامل ہیں۔ ان دومیں سے کسی ایک کے استعفیٰ کے بعد میناکشی نٹراجن راجیہ سبھا کیلئے تلنگانہ سے بلا مقابلہ منتخب ہوسکتی ہیں۔ پارٹی ہائی کمان نے نٹراجن کی شکست کو وقارکامسئلہ بناتے ہوئے تلنگانہ سے انہیں راجیہ سبھا بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ وی نریندرریڈی چونکہ وزیراعلی کے بااعتماد ساتھی ہیں، اورانہیں چند ماہ قبل ہی راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا گیا، ان کے استعفیٰ کے امکانات کم ہیں۔ بجائے ان کے انیل کماریادوکوراجیہ سبھی کی رکنیت سے استعفیٰ کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے بعدانیل کماریادوکومیئرکے عہدہ پرفائزکرنے کا منصوبہ ہے ۔۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق