ادھو ٹھاکرے کے ’شیو بندھن‘ میں اب بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات کی طاقت باقی نہیں رہی: بی جے پی
ممبئی، 16 جون (ہ س) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے دعویٰ کیا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اور سنجے راوت کے ’’شیو بندھن‘‘ میں اب ہندوتوا رہنما بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات کی وہ طاقت باقی نہیں رہی جو کبھی شیوسینا کی شناخت ہوا ک
POLITICS MAHA BJP SHIVSENA UBT


ممبئی، 16 جون (ہ س) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بان نے دعویٰ کیا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اور سنجے راوت کے ’’شیو بندھن‘‘ میں اب ہندوتوا رہنما بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات کی وہ طاقت باقی نہیں رہی جو کبھی شیوسینا کی شناخت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صرف قسمیں کھانے یا شیو بندھن باندھنے سے اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان جماعت میں برقرار نہیں رہتے بلکہ اس کے لیے محبت، اپنائیت اور انسانیت کے رشتے ضروری ہوتے ہیں۔

منگل کو بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوناتھ بان نے کہا کہ ان کے مطابق ادھو ٹھاکرے کے پاس اب نہ کارکنوں کے لیے محبت باقی رہی ہے، نہ اپنائیت اور نہ ہی انسانیت۔ اسی وجہ سے ادھو ٹھاکرے گروپ کے کئی اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان جماعت چھوڑ کر ایسے سیاسی ماحول کی تلاش کرتے ہیں جہاں انہیں عزت اور تعلق کا احساس ہو۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو عوامی رہنما اور ہر ایک سے ملاقات کرنے والا شخص قرار دینا اس دہائی کا سب سے بڑا مذاق ہے۔ ان کے بقول ادھو ٹھاکرے اپنے ہی اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمان کو ’’ماتوشری‘‘ کے دروازے سے واپس بھیج دیتے ہیں، جبکہ سنجے راوت کو بھی کئی مرتبہ وہاں داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔

نوناتھ بان نے سنجے راوت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہر چیز کو پیسے اور خرید و فروخت کے پیمانے پر دیکھنے کے عادی ہوں، وہی اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنجے راوت مہاراشٹر کے عوام کو یہ بتائیں کہ پترہ چال معاملے میں مراٹھی خاندانوں کو مشکلات میں ڈال کر خرید و فروخت کا کھیل کس نے کھیلا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سنجے راوت کو ای ڈی، سی بی آئی اور عدالتیں بھی دے دی جائیں تب بھی ان کے ساتھ کوئی شخص زیادہ عرصہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں نریندر مودی اور امت شاہ نے بھی شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا کیا لیکن انہوں نے اپنی جماعت نہیں چھوڑی۔ نوناتھ بان نے الزام لگایا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دور میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کے باوجود مخالفین ایک بھی کارپوریٹر کو جماعت سے الگ نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع پریشد انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعے مخالف جماعتوں کو واضح پیغام دیا ہے۔ ان کے مطابق عوام کی توہین کرنے والوں کو مستقبل میں بھی عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دریں اثنا، نوناتھ بان نے ابھجیت دیپکے پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص پر تشدد کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر فرد کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور اگر کسی کو کسی احتجاج سے اختلاف ہو تو اس کا جواب بھی جمہوری اور آئینی طریقے سے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی صورت میں تشدد یا مارپیٹ کی حمایت نہیں کرتی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande