
ممبئی، 16 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس تجویز کو منظوری دی گئی، جس کے تحت اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز) اور راج شِشتاچار (پروٹوکول) کو الگ الگ محکموں کی حیثیت دی گئی ہے۔منگل کو منترالیہ میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی تنظیمِ نو سے متعلق تجویز پیش کی گئی تھی، جسے کابینہ نے منظور کر لیا۔ اس فیصلے کے بعد ریاستی انتظامیہ کے محکموں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور مختلف شعبوں کے کام کاج کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔فی الحال ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔ یہ محکمہ ریاستی حکومت کی تشہیر، عوامی رابطوں اور اطلاعاتی سرگرمیوں کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ اس کے سات علاقائی دفاتر موجود ہیں جبکہ ناگپور میں بھی ایک ڈائریکٹر کا دفتر کام کر رہا ہے۔ نئی دہلی اور گوا کے پنجی میں قائم مہاراشٹر تعارفی مراکز کے ذریعے بھی حکومت کے عوامی رابطوں کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ریاست کے تمام اضلاع میں سرکاری اسکیموں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی مہمات ضلعی اطلاعاتی دفاتر کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات، تہواروں اور دیگر اہم مواقع پر میڈیا، عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا فریضہ بھی یہی نظام انجام دیتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اور پروٹوکول کو الگ محکموں کی شکل دینے سے فیصلوں کے عمل میں تیزی آئے گی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی۔واضح رہے کہ گزشتہ کابینہ اجلاس میں ریاست کے 33 انتظامی محکموں کی تنظیمِ نو اور بعض محکموں کے انضمام و تقسیم کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد محکموں کی تعداد 45 ہو گئی تھی۔ تازہ فیصلے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 46 ہو گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس تنظیمِ نو سے مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوگا اور فیصلوں پر عمل درآمد کا عمل مزید تیز اور مؤثر بن سکے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے