ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے کا عہد کر لیا: ٹرمپ
واشنگٹن،16جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت سے متعلق ان کا تازہ بیان ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''''ٹروتھ سو
ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے کا عہد کر لیا: ٹرمپ


واشنگٹن،16جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت سے متعلق ان کا تازہ بیان ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران نے واضح طور پر اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ان کے مطابق یہ یقین دہانی اس معاہدے کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے، جس کی مزید تفصیلات آئندہ ہفتوں میں طے کی جائیں گی۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ اور ایران معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے طریق? کار کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات کے نئے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حالیہ مفاہمت کے تحت امریکہ ایران کو مالی رقوم فراہم کرے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ خبریں جن میں واشنگٹن کی جانب سے تہران کو کروڑوں ڈالر ادا کیے جانے کا ذکر کیا گیا، جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین، خصوصاً ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے عناصر ایسی معلومات پھیلا رہے ہیں۔یہ تردید ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرے تو اسے مالی پیکجز یا اقتصادی مراعات دی جا سکتی ہیں۔ ان رپورٹس نے امریکہ اور اسرائیل میں وسیع بحث اور ردِعمل کو جنم دیا تھا۔امریکی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی یا منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی کا انحصار تہران کی جانب سے طے شدہ وعدوں کی پاسداری، نیز بین الاقوامی نگرانی اور تصدیقی عمل کے نتائج پر ہوگا۔

دوسری جانب ایران کا مو¿قف ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اسی صورت میں کرے گا جب اس پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرونِ ملک منجمد اس کے مالی اثاثے جاری کیے جائیں۔اس وقت دونوں فریق تکنیکی مذاکرات کے آغاز کے منتظر ہیں، جن میں مجوزہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس پر عمل درآمد کے طریق? کار کو طے کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام موجودہ مذاکرات کا سب سے اہم اور حساس موضوع ہے۔ امریکہ بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ ایسا ہونا چاہیے، جو مستقبل میں ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے مو¿ثر طور پر روک سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande