
کولکاتا، 16 جون (ہ س)۔ پہاڑ کے اپنے پہلے دورے کے دوران، مغربی بنگال کے وزیر اعلی شھیندو ادھیکاری نے گورکھا علاقائی انتظامیہ (جی ٹی اے) میں مبینہ بھرتی گھوٹالہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تحقیقات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آنے والے مہینوں میں بڑے پیمانے پر اساتذہ اور پولیس اہلکاروں کی بھرتی مکمل طور پر شفاف عمل کے تحت کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے منگل کو کرسیونگ میں ایک انتظامی میٹنگ اور ایک عوامی ریلی میں شرکت کی۔ جن کلیان شیویر (پیپلز ویلفیئر کیمپ) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سابقہ ترنمول کانگریس حکومت پر سخت حملہ کیا اور بھرتی کے عمل میں بدعنوانی کے الزامات کو دہرایا۔
شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں تقرریوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں، اور جی ٹی اے کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کی حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے ساتھ کام کررہیہے۔
میں نہ کھاوں گا اور نہ دوسروں کو کھانے دوں گا۔ تمام بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کی جائیں گی اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا، وزیر اعلیٰ نے یاد دلاتے ہوئے کہا، کہ ان کی حکومت نے پہلے ہی جی ٹی اے اساتذہ کی بھرتی معاملہ میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے پہاڑی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے اہم اعلانات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ساتھ ہی ، خالی تدریسی اسامیوں پر بھرتی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بھرتی کا پورا عمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ ان کے پچھلے دور میں پہاڑیوں کو صرف ایک سیاحتی مقام کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جب کہ ان کی حکومت ترقی اور عوامی بہبود کے مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں سیاح کے طور پر نہیں بلکہ کام کرنے آیا ہوں۔
وزیراعلیٰنے یہ بھی یقین دلایا کہ مرکزی اور ریاستی ڈبل انجن حکومتوں کی تمام ترقیاتی اسکیموں اور فلاحی اسکیموں کو پہاڑیوں کے لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔ ان کی بھرتی کے اعلانات اور ترقیاتی وعدوں کا پہاڑی علاقوں میں مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی