
نئی دہلی، 16 جون (ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر نے منگل کو کہا کہ اگرچہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن ہیومن انٹیلی جنس (ایچ آئی) یعنی انسان کی سوچنے، سمجھنے اور اعتماد قائم کرنے کی صلاحیت کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
سنیل آمبیکر دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اندرپرستھ وشو سنواد کیندر کے زیر اہتمام منعقدہ 'دیورشی نارَد صحافت اعزاز تقریب' سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں صحافت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے 12 افراد کو اعزازات سے نوازا گیا۔
آمبیکر نے کہا، اب تک آنے والی بیشتر ٹیکنالوجیز میں انگریزی زبان کو ترجیح دی جاتی رہی، لیکن نئی اے آئی نہ صرف ہماری قومی زبانوں بلکہ ان چھوٹی چھوٹی بولیوں اور لوک گیتوں کو بھی محفوظ کر رہی ہے جن کی اپنی کوئی رسم الخط نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب ہماری زبان اور ہمارے ہی لہجے میں بات کرے گی۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کو دیکھ کر اس کے دیوانے نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے چاہئیں، بلکہ اسے صرف اپنی سہولت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
دیورشی نارَد کے پیغام کی یاد دلاتے ہوئے آمبیکر نے کہا کہ صحافت کا مقصد سماج کی بھلائی کے لیے بامعنی معلومات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مکمل اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے وقت میں بھارت اور بھارتی دھرم کی حقیقی تصویر عالمی سطح پر سامنے آئے گی اور ملک مسلسل ترقی کرتا رہے گا۔
آمبیکر نے کہا کہ لوگ دوسروں سے تو مثالی رویے کی توقع رکھتے ہیں لیکن خود قوانین کی پابندی نہیں کرتے۔ آج کل لوگ سی سی ٹی وی کیمروں کو دیکھ کر اپنا رویہ بدل لیتے ہیں، جبکہ حقیقی نظم و ضبط وہ ہے جو کسی کیمرے کی نگرانی کے بغیر بھی برقرار رہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک کے مسائل کی ذمہ داری سب کو اجتماعی طور پر قبول کرنی ہوگی۔
سینئر صحافی راہُل کنول نے کہا کہ اے آئی کے اس دور میں صحافت کا مستقبل سلیکن ویلی کے الگورتھمز سے نہیں بلکہ بھارت کے آدی صحافی دیورشی نارَد کے طرزِ کار سے طے ہوگا۔ مشینیں ڈیٹا اور اسکرپٹ تیار کر سکتی ہیں، لیکن وہ انسانی احساسات، ہمدردی اور بصیرت کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع اور وسائل بدل سکتے ہیں، لیکن صحافت کا مشن کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔
راہُل کنول نے کہا کہ صحافت کا اعلیٰ ترین مقصد فہم و ادراک پیدا کرنا، جہالت کو کم کرنا، معاشرے کے مختلف طبقات کو جوڑنا اور شہریوں کو اس انتہائی پیچیدہ اور منقسم دنیا کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ انہوں نے مستقبل کے صحافیوں کے لیے نارَد طریقۂ کار پر مبنی چھ ستونوں پر زور دیا، جن میں سفر کرنا، سننا، دیکھنا اور مشاہدہ کرنا، تصدیق کرنا، اعتماد قائم کرنا اور عوام کی خدمت کرنا شامل ہیں۔
اس موقع پر انعام یافتگان کو ایک شال، ایک مومنٹو اور 11 ہزار روپے نقد رقم دے کر اعزاز سے نوازا گیا۔
ان میں بہترین نوجوان صحافی پوجا رانا (سینئر اسوسی ایٹ ایڈیٹر، اوپ انڈیا)، خواتین کے مسائل و حساسیت پر بہترین صحافت گرمِا اپریتی (ایڈیٹر، نو دی نیشن)، بہترین دیہی و ماحولیاتی صحافت ہمانی دیوان (سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر، کسان تک)، بہترین کانٹینٹ کریئیٹر (یوٹیوب) ومل تیاگی (پبلک متر)، بہترین کانٹینٹ کریئیٹر (ایکس) میانک بالیان (بالیان_ایکس)، بہترین کانٹینٹ کریئیٹر (انسٹاگرام) منوجنیا تیواری، بہترین جرات مندانہ صحافی پربھات رنجن مشرا (دی پمفلٹ)، بہترین ڈیجیٹل صحافی نیرج کمار دوبے (ایڈیٹر، پربھاساکشی)، بہترین پرنٹ صحافی نہال سنگھ (ڈپٹی چیف رپورٹر، دینک جاگرن)، بہترین ٹی وی صحافی ڈاکٹر رام کنکر سنگھ (پی ٹی آئی ویڈیو)، بہترین کالم نگار شاشوت (پانی گراہی) اور بہترین اختراعی صحافی رامانج شرما (نیوز ایڈیٹر، ہندوستان سماچار) شامل تھے۔
ان کا انتخاب جیوری نے کیا تھا، جس میں ممتا ورما (ڈائریکٹر جنرل، ڈی ڈی نیوز)، راج کشور (سینئر ایڈوائزر ایڈیٹر، امر اجالا گروپ)، روہت وشوکرما (منیجنگ ایڈیٹر، این ڈی ٹی وی انڈیا)، برجیش کمار سنگھ (گروپ ایڈیٹر کنورجنس، نیٹ ورک 18)، ایشوریہ پنڈت (منیجنگ ڈائریکٹر، آئی ٹی وی نیٹ ورک) اور ہریش چندر برنوال (سینئر وائس پریزیڈنٹ، بلو کرافٹ) شامل تھے۔
اس موقع پر اندرپرستھ ادھیان کیندر کے عہدیداران اور صحافت کی دنیا کی متعدد ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد