تاریخ کے آئینے میں 17 جون : جب فرانس نے امریکہ کو اسٹیچو آف لبرٹی پیش کیا
تاریخ کے آئینے میں 17 جون : جب فرانس نے امریکہ کو اسٹیچو آف لبرٹی پیش کیا تاریخ میں 17 جون کی تاریخ ایک اہم بین الاقوامی واقعے کے لیے یاد کی جاتی ہے۔ اسی دن سال 1885 میں فرانس نے امریکہ کو دنیا کا مشہور ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ تحفے میں دیا تھا۔ آج ی
علامتی تصویر


تاریخ کے آئینے میں 17 جون : جب فرانس نے امریکہ کو اسٹیچو آف لبرٹی پیش کیا

تاریخ میں 17 جون کی تاریخ ایک اہم بین الاقوامی واقعے کے لیے یاد کی جاتی ہے۔ اسی دن سال 1885 میں فرانس نے امریکہ کو دنیا کا مشہور ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ تحفے میں دیا تھا۔ آج یہ بڑا مجسمہ صرف امریکہ کی پہچان ہی نہیں، بلکہ آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی عالمی علامت مانا جاتا ہے۔ ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ امریکہ کی آزادی کی یاد میں فرانس کے عوام کی طرف سے دیا گیا ایک خاص تحفہ تھا۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط کرنا اور آزادی نیز جمہوری اقدار کے تئیں مشترکہ عزم کو احترام دینا تھا۔

اس مجسمے کی تعمیر فرانس اور امریکہ کے مشترکہ تعاون سے ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق مجسمے کی تعمیر اور ڈیزائن فرانس نے تیار کیا، جبکہ اس کے لیے پیڈسٹل (چبوترے) کی تعمیر امریکہ کے عوام نے کرائی۔ فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آگسٹ برتھولڈی کے ذریعے ڈیزائن کیے گئے اس مجسمے کے اندرونی ڈھانچے کی تعمیر میں گستاو ایفل کا بھی اہم تعاون مانا جاتا ہے۔

تانبے سے بنا یہ بڑا مجسمہ نیویارک ہاربر میں واقع لبرٹی جزیرے پر نصب ہے۔ دائیں ہاتھ میں مشعل اور بائیں ہاتھ میں آزادی کی تاریخ لکھی تختی تھامے یہ مجسمہ پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کو راغب کرتا ہے۔ آج اسٹیچو آف لبرٹی صرف ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ آزادی، مساوات اور امید کی ایسی علامت ہے، جو پوری دنیا کو جمہوری اقدار اور انسانی آزادی کی اہمیت کا پیغام دیتا ہے۔ 17 جون کا دن اسی تاریخی تحفے اور فرانس-امریکہ کی دوستی کی یاد دلاتا ہے۔

دیگر اہم واقعات

1609- نیدر لینڈ، انگلینڈ اور فرانس نے 12 سال کے معاہدے پر دستخط کیے۔

1631- آصف خان کی بیٹی ممتاز محل کا انتقال، جن کا نکاح مغل شہنشاہ ’خرم‘ (شاہجہاں) سے ہوا۔

1756- نواب سراج الدولہ نے 50 ہزار فوجیوں کے ساتھ کلکتہ پر حملہ کیا۔

1799- نیپولین بونا پارٹ نے اٹلی کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔

1885- اسٹیچو آف لبرٹی نیویارک کی بندرگاہ پہنچی۔

1917- مہاتما گاندھی نے سابرمتی آشرم میں ہردے کنج کو اپنی رہائش گاہ بنایا۔

1938- جاپان نے چین کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

1944- جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم میں ہتھیار ڈالے۔

1974- برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بم دھماکہ، 11 لوگ زخمی۔

1980- امریکہ نے اپنے 160 جوہری میزائلوں کو برطانیہ میں رکھنے کا اعلان کیا، تاکہ کسی بھی بحران کی صورت میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔

1991- راجیو گاندھی کو بعد از مرگ ’بھارت رتن‘ دیا گیا۔

1994- شمالی کوریا بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اپنے ملک میں بنے رہنے دینے پر متفق۔

1999- تھابو ایمبیکی جنوبی افریقہ کے صدر جمہوریہ اور جیکب زوما نائب صدر جمہوریہ مقرر۔

1999- کارگل میں جاری جنگ کے پیشِ نظر آئی ایس آئی کے ذریعے کارگل جہاد فنڈ کا قیام۔

2001- نیپال شاہی خاندان قتل کیس میں ڈاکٹر نے کہا کہ دیپیندر کے خون میں شراب کا عنصر نہیں تھا۔

2002- کراچی میں امریکی قونصلیٹ دوبارہ کھولا گیا۔

2003- فرانس میں 165 ایرانی دہشت گرد گرفتار۔

2004- مریخ پر زمین کی چٹانوں سے ملتے جلتے پتھر ملے۔

2004- بغداد میں فوج کے بھرتی مرکز پر دھماکے میں 42 ہلاک اور 127 زخمی۔

2008- ملک میں تیار کردہ ہلکے لڑاکا طیارے ’تیجس‘ کا بنگلورو میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا۔

2008- روس نے 2012 تک اپنے تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ کرنے کی سمت میں قدم بڑھایا۔

2008- کینیڈا حکومت نے تمل ورلڈ موومنٹ تنظیم کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کیا۔

2012- سائنا نیہوال تیسری بار انڈونیشیا اوپن چیمپئن بنیں۔

2017- پرتگال میں جنگل کی آگ سے 64 لوگوں کی موت اور 204 دیگر زخمی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande