مرکز نے ہندوستان اور خلیجی ممالک کے درمیان گہرے سمندر میں توانائی کی پائپ لائن کی خبروں کی تردید کی
نئی دہلی، 16 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے منگل کوان میڈیا رپورٹس کو خارج کر دیا کہ وہ گجرات کو عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے جوڑنے والی گہرے سمندر میں توانائی کی پائپ لائن پر کام کر رہی ہے۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے آج ایک بیان میں کہا کہ اس ن
توانائی


نئی دہلی، 16 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے منگل کوان میڈیا رپورٹس کو خارج کر دیا کہ وہ گجرات کو عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے جوڑنے والی گہرے سمندر میں توانائی کی پائپ لائن پر کام کر رہی ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے آج ایک بیان میں کہا کہ اس نے کئی میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند گہرے سمندر سے توانائی کی پائپ لائن کی تعمیر کے لیے سرگرم عمل ہے، جسے کبھی کبھی 'مڈل ایسٹ انڈیا ڈیپ واٹر پائپ لائن' (ایم ای آئی ڈی پی ) کہا جاتا ہے، جو گجرات کو عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے جوڑے گی۔

وزارت نے واضح کیا کہ اس طرح کی کوئی تجویز فی الحال وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کے زیر غور نہیں ہے۔ وزارت کے اندر اس منصوبے کے حوالے سے عمان یا کسی دوسرے خلیجی ملک کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی فعال بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ وضاحت اس معاملے سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو روکنے کے لیے جاری کی گئی ہے۔

وزارت پٹرولیم نے کہا کہ ایل این جی کے جہاز دیشا نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے پار کیا ہے۔ یہ بحری جہاز 62,370 ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر ریاست گجرات کے بھروچ ضلع میں خلیج کھمبات پر واقع ایک بڑے صنعتی اور بندرگاہی شہر دہیج کے لیے جارہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande