
نئی دہلی، 16 جون (ہ س)۔ کانگریس پارٹی نے ایودھیا میں شری رام مندر کے نذرانے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج سے متعینہ وقت میں جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ حکومت نے قوم کی آستھاکے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی (سی ایل پی) کی لیڈر آرادھنا مشرا 'مونا' نے منگل کو یہاں ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ شری رام جنم بھومی سائٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات بڑے پیمانے پر منظم بدعنوانی کا انکشاف کرتی ہیں۔ اجے رائے نے الزام لگایا کہ پہلے شری رام جنم بھومی سائٹ پر شیلا پوجن کے نام پر بڑی رقم اکٹھی کی گئی تھی، جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ یہ 1,400 کروڑ روپے سے زیادہ کی چوری ہے۔
انہوں نے زمین، تعمیرات اور نذرانے میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے مودی حکومت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلہ پر ایس آئی ٹی کی رپورٹ ایک ہفتہ کے اندر جاری کی جانی چاہئے۔ تاہم، انہوں نے بتایاکہ ایس آئی ٹی کی جانچ ایک ایسے افسر کو سونپی گئی ہے جو اس وقت مہا کمبھ میلے میں بھگدڑ کی تحقیقات سے منسلک ہے۔
کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا (مونا) نے دعویٰ کیا کہ جہاں نذرانے میں بے ضابطگیوں کا معاملہ آج سامنے آیا ہے، پس منظر کے ثبوت بتاتے ہیں کہ حصول اراضی کے دوران بھی سستی زمین خریدی گئی اور ٹرسٹ کو اونچی قیمت پر فروخت کی گئی۔ مندر کے آس پاس کی فوجی اراضی بھی قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے ممتاز افراد کے حوالے کر دی گئی۔ انہوں نے تعمیراتی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کروڑوں کی لاگت سے بنائی گئی سڑک پہلی بارش کے دوران گر گئی اور گربھ گرہ میں پانی ٹپک رہاتھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی