




درخواست دینے کے تیس دن کے اندر کام نہیں کیا توکردیئے جائیں گے افسران، جرائم پیشہ افراد کو بہار چھوڑنا ہوگا: سمراٹ چودھریسیوان، 16 جون (ہ س)۔
بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز پچ رخی بلاک کی پپور پنچایت میں منعقدہ ’’سب کا سمان، جیون آسان‘‘ (سب کا احترام، زندگی آسان) سہیوگ شیور(تعاون کیمپ) میں حصہ لیتے ہوئے ضلع کو 415.18 کروڑ روپے کی 44 ترقیاتی اسکیموں کا تحفہ دیا۔
اس دوران انہوں نے حکام کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی درخواست کا 30 دنوں کے اندر تصفیہ نہیں کرنے والے ملازمین اورعہدیداران 31 ویں دن معطل کر دیے جائیں گے۔ ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعاون کیمپ کا نظام ملک میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد پہل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ریاست بھر میں تین لاکھ تین ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد کو نمٹایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 دنوں میں عوام کا کام ہرحال میں پورا کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ نے بہار میں گڈ گورنینس اور امن و امان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کسی بھی ذات یا مذہب کا ہو، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’جرائم پیشہ افراد کو یا تو بہار چھوڑنا پڑے گا یا پھر جیل جانا پڑے گا۔ بدمعاشوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔‘‘
سمراٹ چودھری نے شعبۂ تعلیم میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جن بلاکس میں ڈگری کالج نہیں ہیں، وہاں جولائی سے کالج شروع کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ہر بلاک میں جدید ماڈل اسکول قائم کر کے طلبہ کو نیٹ، جے ای ای اور آئی آئی ٹی جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرائی جائے گی۔ شعبۂ توانائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگلے دو سالوں میں 25 لاکھ غریب اور بی پی ایل خاندانوں کے گھروں پر مفت سولر پلانٹ لگائے جائیں گے۔ اس سے نہ صرف بجلی دستیاب ہوگی بلکہ اضافی بجلی کی پیداوار پر لوگوں کو معاشی فائدہ بھی ملے گا۔
صحت خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 15 اگست کے بعد عام مریضوں کو ضلع اسپتالوں سے ریفر نہیں کیا جائے گا۔ اسپتالوں میں بہتر علاج کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سیوان میں شوگر مل قائم کرنے کے مطالبے پر مثبت رخ دکھاتے ہوئے چیف سکریٹری اور ضلع انتظامیہ کو اراضی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شوگر انڈسٹری، ڈیری، ماہی پروری اور کوآپریٹو سیکٹر کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اپنے خطاب کے آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’بہار خوشحال ہوگا تبھی ہندوستان ترقی یافتہ بنے گا‘‘ اور سال 2030 تک ایک کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے ہدف کو ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔
اس موقع پر مہاراج گنج کے رکن پارلیمنٹ جناردن سنگھ سگریوال، سیوان کی رکن پارلیمنٹ وجے لکشمی، سابق وزیر صحت منگل پانڈے، رکن اسمبلی دیویش کانت سنگھ، رکن اسمبلی ہیم نارائن ساہ، کرن جیت سنگھ عرف ویاس سنگھ، اندر دیو سنگھ پٹیل، وشنو دیو پاسوان، بھیشم پرتاپ سنگھ، سابق رکن پارلیمنٹ اوم پرکاش یادو، کویتا سنگھ، بی جے پی کے ضلع صدر راہل تیواری، جے ڈی یو صدر وکاس کمار سنگھ، رنجیت پرساد، سنجے پانڈے سمیت این ڈی اے کے کئی رہنما موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن