
پونے، 16 جون (ہ س) کیریئر رہنما وویک ویلنکر نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں دنیا بھر میں تجسس اور خدشات دونوں پائے جاتے ہیں، لیکن جس طرح کمپیوٹر اور موبائل فون کو لوگوں نے آسانی سے قبول کیا اور وہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے، اسی طرح مستقبل میں اے آئی بھی عام زندگی کا لازمی حصہ بن جائے گی۔ وہ پونے میں ادارہ ایسپائر نالج اینڈ اسکلز اور رائے گڑھ کی ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ کیریئر رہنمائی میلے سے خطاب کر رہے تھے۔
وویک ویلنکر نے کہا کہ اے آئی کے استعمال کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ملک میں آئی ٹی کمپنیاں اور ان سے وابستہ خدمات بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس لیے مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق روزگار اور سرمایہ کاری کے سب سے زیادہ مواقع بھارت میں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، زراعت، صنعت، خدمات، طب، تجارت اور فنون سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں روایتی کوڈنگ اور پروگرامنگ کی بعض ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم اے آئی ٹولز تیار کرنے والوں اور مشین لرننگ کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ویلنکر نے طلبہ اور والدین کو مشورہ دیا کہ کالج کا انتخاب کرتے وقت کیمپس پلیسمنٹ اور انٹرن شپ جیسی سہولتوں کو ترجیح دی جائے۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر امت شیش نے بتایا کہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور ایسپائر نالج اینڈ اسکلز کے درمیان بی ایس سی (آنرز) اِن آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ مشین لرننگ کے نئے تعلیمی پروگرام کے لیے مفاہمتی معاہدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈگری کے ساتھ صنعتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے یونیورسٹی مختلف اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ڈاکٹر امت شیش کے مطابق یونیورسٹی کی رہنمائی میں اب تک 92 اسٹارٹ اپس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ قومی انکیوبیشن اور اسٹارٹ اپ پالیسی کے تحت ہر سال 25 لاکھ روپے کا فنڈ بھی مختص کیا گیا ہے۔ ایسپائر نالج اینڈ اسکلز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سنجے گاندھی نے کہا کہ ادارہ قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق کام کر رہا ہے اور اب تک 100 سے زائد اسٹارٹ اپس کی رہنمائی کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بارہویں جماعت کے بعد چار سالہ بی ایس سی (آنرز) اِن آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ مشین لرننگ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس میں طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ چوتھے سال میں صنعتی انٹرن شپ فراہم کی جائے گی، جس کے دوران طلبہ کو وظیفہ اور عملی تجربے کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سنجے گاندھی نے کہا کہ یہ چار سالہ ڈگری بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے