مئی میں تھوک مہنگائی بڑھ کر 9.68 فیصد ہوگئی
نئی دہلی، 15 جون (ہ س)۔ مغربی ایشیا کے بحران سے متاثر ملک میں تھوک مہنگائی مئی میں بڑھ کر 9.68 فیصد ہوگئی، جو اپریل میں 8.26 فیصد تھی۔ وزارت تجارت اور صنعت نے پیر کو تھوک قیمت انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی افراط زر کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ وزا
مئی میں تھوک مہنگائی بڑھ کر 9.68 فیصد ہوگئی


نئی دہلی، 15 جون (ہ س)۔ مغربی ایشیا کے بحران سے متاثر ملک میں تھوک مہنگائی مئی میں بڑھ کر 9.68 فیصد ہوگئی، جو اپریل میں 8.26 فیصد تھی۔ وزارت تجارت اور صنعت نے پیر کو تھوک قیمت انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی افراط زر کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ وزارت نے کہا کہ اس کی بنیادی وجوہات ایندھن اور بجلی، تیار شدہ مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہیں۔ وزارت نے 2011-12 سے 2022-23 کے بنیادی سال پر نظر ثانی کرنے کے بعد جاری کردہ اپنے ڈبلیو پی آئی پر مبنی افراط زر کے اعداد و شمار میں کہا کہ ایندھن اور بجلی کے زمرے میں تھوک مہنگائی مئی میں بڑھ کر 30.33 فیصد ہوگئی جو اپریل میں 24.89 فیصد تھی۔ اس عرصے کے دوران خام پیٹرولیم کی افراط زر 61.51 فیصد رہی جو کہ اپریل میں 56.31 فیصد تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق تھوک مہنگائی میں یہ تیز اضافہ مغربی ایشیا میں جاری بحران اور آبنائے ہرمز کی مو¿ثر رکاوٹ کی وجہ سے ہوا، جہاں سے ہندوستان اپنا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی متاثر ہوئیں۔ اشیائے خوردونوش کی مہنگائی مئی میں بڑھ کر 3.60 فیصد ہوگئی جو اپریل میں 2.43 فیصد تھی۔ مینوفیکچرڈ مصنوعات کی افراط زر بھی بڑھ کر 7.48 فیصد ہو گئی جو کہ اپریل میں 6.68 فیصد تھی۔قابل ذکر ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ افراط زر مئی میں 3.93 فیصد کی 16 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اپریل میں یہ 3.48 فیصد تھی۔ اس مہینے کے شروع میں، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے رواں مالی سال 2026-27 کے لیے اپنی افراط زر کی پیشن گوئی 4.6 فیصد سے بڑھا کر 5.1 فیصد کر دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande