امریکہ اور ایران کے امن معاہدے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5% تک کمی
واشنگٹن،15جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد کہ دونوں ممالک نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ کر لیا ہے، تیل کی قیمتیں پیر کے روز مارچ کے بعد اپنی کم تری
امریکہ اور ایران کے امن معاہدے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5% تک کمی


واشنگٹن،15جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد کہ دونوں ممالک نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ کر لیا ہے، تیل کی قیمتیں پیر کے روز مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئیں۔گرینچ کے وقت کے مطابق صبح 04:08 بجے تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 4.03 ڈالر یا 4.61 فی صد گراوٹ کے ساتھ 83.30 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.28 ڈالر یا 5.04 فی صد کمی کے ساتھ 80.60 ڈالر پر آگئی۔روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق جمعہ کے روز دونوں سودوں میں 3 فی صد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی تھی۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف جن کا ملک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا کہ امریکہ اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کریں گے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی فیس کے کھلی رہے گی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم ہو جائے گی۔ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطابق معاہدے کے مسودے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ایرانی انتظامات کے مطابق 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔’کے سی ایم ٹریڈ‘ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹیرر نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں شامل جیو پولیٹیکل رسک پریمیم اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے، کیونکہ تاجر تیل کی سپلائی کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔جنگ کی وجہ سے 3 ماہ سے زائد عرصے تک آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی منڈیاں لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی سپلائی سے محروم ہو گئی تھیں۔یہ آبنائے ایک تزویراتی گزرگاہ ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ یہاں سے گزرتا تھا۔سرمایہ کار جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد مشرق وسطیٰ کے پیداواری ممالک سے تیل کی پیداوار اور برآمدات کی بحالی کی رفتار پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں... اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آیا خطے میں مزید بحری جہاز داخل ہوں گے یا نہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ 60 دنوں پر محیط جنگ بندی کی مدت کے دوران ایک وسیع تر معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اتوار کے روز کہا کہ وہ تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بدلے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande