امریکہ- ایران کے درمیان امن معاہدہ، سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو سمجھوتے پر دستخط
دوحہ/واشنگٹن/تہران، 15 جون (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل بالآخر چھٹ رہے ہیں۔ 28 فروری سےمیدان جنگ بنے ہوئے آبنائے ہرمز میں اب بغیر کسی رکاوٹ کے جہاز رانی کی اجازت ہونے کی امید ہے ۔ طویل بحث کے بعد امریکہ اور ایران ایک سمجھوتے پر پہنچ گئ
US-Iran-Peace-Agreement


دوحہ/واشنگٹن/تہران، 15 جون (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل بالآخر چھٹ رہے ہیں۔ 28 فروری سےمیدان جنگ بنے ہوئے آبنائے ہرمز میں اب بغیر کسی رکاوٹ کے جہاز رانی کی اجازت ہونے کی امید ہے ۔ طویل بحث کے بعد امریکہ اور ایران ایک سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران نے امن معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

کلیدی ثالث پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مضبوطی سے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہی نہیں، اب یہ نافذالعمل ہو چکا ہے۔ معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے۔

الجزیرہ، گلف نیوز اور سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ دونوں فریقوں نے معاہدے کے حتمی مسودے پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ اب لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم ہو جائے گی۔ ایرانی فوج نے کہا کہ ایرانی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس شکست قبول کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہوتا ہے تو، اسرائیل، حزب اللہ اور خطے کے دیگر فریقوں میں شامل بحران میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا جس کی وجہ سے لبنان، غزہ اور سمندری راستوں میں لڑائی ہوئی ہے۔

دریں اثنا، عالمی رہنماؤں نے پیر کو امن معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ قطر، ترکیہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے معاہدے کی تعریف کی۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ہم امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر توقع کرتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے مذاکرات ’’مثبت اور تعمیری جذبے‘‘ کے ساتھ منعقد ہوں گے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ’’مجھے پوری امید ہے کہ یہ خبر، جس کی پوری دنیا کو طویل عرصے سے ضرورت تھی، ہمارے خطے میں امن اور سلامتی کا پائیدار ماحول پیدا کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔‘‘انہوں نے اشتعال انگیز کارروائیوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر پاکستان، قطر اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاہدے کو ’’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کو یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف ایک انتہائی اہم قدم‘‘ قرار دیا۔ اسٹارمر نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ اور پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کے ثالثوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس کامیابی میں اپناتعاون دیا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے معاہدے کے تیزی سے نفاذ کی امید ظاہر کی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘پر لکھاکہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو۔ دنیا بھر کے جہاز، اپنے انجن شروع کریں، تیل کا بہاو ہونے دیں۔‘‘ پاکستان کے وزیر اعظم شریف نے کہا کہ معاہدے پر باضابطہ طور پر جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ انہوں نے سفارتی عمل میں تعاون پر قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ شریف کے مطابق، ثالث اب تکنیکی مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کی بنیاد رکھنے کے لیے رسمی دستخط سے پہلے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ منعقد کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande