امریکہ اور ایران کے درمیان 108 دن تک  چلی محازآرائی ، اب سمجھوتے کے آثار
تہران/واشنگٹن، 15 جون (ہ س)۔ امریکہ اور ایران پورے 108 دن تک کشمکش میں الجھے رہے۔ اس کی ایران کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازعہ کو ختم کرنے کا اعلان 15 جون دونوں فریقوں نے کیا۔ دونوں کے درمیان اہم رابطہ کار پاکستان کے
امریکہ اور ایران کے درمیان 108 دن تک  چلی محازآرائی ، اب سمجھوتے کے آثار


تہران/واشنگٹن، 15 جون (ہ س)۔ امریکہ اور ایران پورے 108 دن تک کشمکش میں الجھے رہے۔ اس کی ایران کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازعہ کو ختم کرنے کا اعلان 15 جون دونوں فریقوں نے کیا۔ دونوں کے درمیان اہم رابطہ کار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ امن معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔

دستخط ہو جائیں گے… خونریزی بھی رک جائے گی۔ آبنائے ہرمز بھی کھل جائے گی، لیکن اس جنگ میں جو خون بہا، اس کا کیا؟ اس جنگ سے متعلق ای-اطلاعات (اخباری تراشوں) کی کچھ سرخیاںحیرت انگیز ہیں۔ سلسلہ وار ان کا بیان کبھی انتہائی خوفناک، کبھی امید افزا ہے۔ اس تنازعہ کا آغاز بنیادی طور پر 28 فروری کو ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کرتے ہیں۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر مارے جاتے ہیں۔

اس کے بعد مغربی ایشیا میں کہرام مچ جاتا ہے۔ غم میں ڈوبا ایران اگلے ہی دن امریکہ کے اتحادی ممالک پر میزائل حملے کرتا ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں تین افراد کی موت ہو جاتی ہے، جن میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہوتا ہے۔ تنازعہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ 2 مارچ کو کویت غلطی سے امریکہ کے تین جنگی طیارے مار گراتا ہے۔ غصے میں آیا ہوا امریکہ دو دن بعد مزید جارح ہو جاتا ہے۔ 4 مارچ کو بحرِ ہند میں امریکی بحریہ ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو ٹارپیڈو حملے میں ڈبو دیتی ہے۔

زخمی شیر کی طرح ایران شدید بدلے کی آگ میں بھڑک اٹھتا ہے۔ وہ 5 مارچ کو اسرائیل، امریکی اڈوں اور خطے کے دیگر ممالک پر نئے حملوں کا آغاز کرتا ہے۔ اگلے روز ٹرمپ تہران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جسے ایران مسترد کر دیتا ہے۔ 8 مارچ کو سعودی عرب کے ایک رہائشی علاقے میں میزائل گرنے سے دو افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں ایک بھارتی شہری شامل ہوتا ہے۔ 9 مارچ کو آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای اپنے والد کے بعد ایران کے سپریم لیڈر بن جاتے ہیں اور 12 مارچ کو حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔

ٹرمپ 13 مارچ کو جی-7 ممالک کو بتاتے ہیں کہ ایران کسی بھی وقت ہتھیار ڈال سکتا ہے۔ 17 مارچ کو امریکہ-اسرائیل حملوں میں ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی مارے جاتے ہیں، اور اگلے دن انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ 20 مارچ کو بھارتی سفارتخانہ اعلان کرتا ہے کہ سعودی عرب میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوا ہے۔

اس کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ 21 مارچ کو امریکہ عارضی طور پر ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی نرم کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ 23 مارچ کو پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف پہلی بار ایران کے صدر سے بات کرتے ہیں۔ ٹرمپ ہرمز آبنائے کھولنے کے لیے ایران کو پانچ دن کی مہلت دیتے ہیں۔

ایران 25 مارچ کو امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیتا ہے۔ 27 مارچ کو اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتا ہے۔ 31 مارچ کو چین اور پاکستان پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کرتے ہیں، جسے قبول نہیں کیا جاتا۔ 3 اپریل کو ایران ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گراتا ہے، اور کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔

8 اپریل کو دونوں فریق دو ہفتے کی جنگ بندی پر متفق ہوتے ہیں، مگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں۔ 12 اپریل کو امریکہ ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتا ہے۔ بعد کے دنوں میں مختلف بیانات، حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔

مئی میں بھی صورتحال بگڑتی رہتی ہے، بحری جہازوں پر حملے ہوتے ہیں اور علاقائی کشیدگی بڑھتی ہے۔ جون کے آغاز میں ایک بار پھر حملوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ 15 جون کو اعلان کیا جاتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کا معاہدہ حتمی ہو چکا ہے اور 19 جون کو اس پر دستخط ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande