سعودی عرب اور فرانس میں سیاحتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
پیرس،15جون(ہ س)۔سعودی عرب اور فرانس نے اپنی سیاحتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک مشترکہ عملی پروگرام پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے تاکہ سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی دی جا سکے او
سعودی عرب اور فرانس میں سیاحتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق


پیرس،15جون(ہ س)۔سعودی عرب اور فرانس نے اپنی سیاحتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک مشترکہ عملی پروگرام پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے تاکہ سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی دی جا سکے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ نیا معاہدہ دوطرفہ تعاون کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے، جس میں مخصوص نکات اور واضح عملی معیارات شامل ہیں۔

اس مشترکہ پروگرام کے تحت سیاحتی انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی، جس کے لیے تربیت اور افرادی قوت کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے شعبے میں بہترین تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سیاحتی سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو آسان بنانے پر بھی خاص زور دیا گیا ہے۔اسی سیاق میں یہ پروگرام پائیدار سیاحت کے شعبے میں تعاون کو بھی مضبوط بناتا ہے، جس کے تحت سیاحتی بہاو¿ کے انتظام اور مہمان نوازی کی سرگرمیوں میں قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

یہ تعاون جدت اور نئی ٹیکنالوجیز کے میدان تک بھی پھیلا ہوا ہے، جس میں سفر اور سیاحت سے متعلق ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی فرانسیسی کمپنیوں اور سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کے اداروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل حل اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ سیاحت اور ٹریول ٹیک کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اختراع سے متعلق عالمی تقریبات اور فورمز میں شرکت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔مزید برآں یہ پروگرام دونوں ممالک کے درمیان بہترین سیاحتی طریق? کار کے فروغ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اور شماریات کے شعبے میں تعاون کو بھی وسعت دیتا ہے، جس کے تحت سیاحتی ڈیٹا کے جمع کرنے اور تجزیے میں علم و تجربے کا تبادلہ آسان بنایا جائے گا۔اس کے ساتھ سیاحتی ڈیٹا کی پراسیسنگ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر مکالمے کو فروغ دیا جائے گا اور عالمی تقریبات کے انعقاد کے تجربات کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔اسی طرح سعودی ٹورازم اتھارٹی اور فرانسیسی ادارے Atout France کے درمیان مقامات کی تشہیر کے حوالے سے بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔

یہ پروگرام گزشتہ برسوں کے مسلسل تعاون کا تسلسل ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک روایتی ادارہ جاتی مکالمے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات پر مبنی شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔یہ معاہدہ ایک ایسے تعاون کی مثال بھی ہے، جس میں دو عالمی سطح کی اہم سیاحتی منزلیں شامل ہیں، جہاں فرانس 2024 میں 100 ملین سے زائد بین الاقوامی سیاحوں کی میزبانی کے ساتھ دنیا کی سب سے زیادہ سیاحتی توجہ حاصل کرنے والی منزل قرار پایا۔اسی دوران یہ مشترکہ پروگرام اسپین کے شہر طلیطلہ میں منعقدہ اقوام متحدہ کی سیاحت کی ایگزیکٹو کونسل کے 126ویں اجلاس کے موقع پر طے پایا، جہاں سعودی وفد کی قیادت وزیرِ سیاحت احمد الخطیب کر رہے تھے، جبکہ فرانسیسی وفد کی قیادت وزیرِ برائے چھوٹے و درمیانے کاروبار، تجارت، دستکاری اور سیاحت سیرج پاپین نے کی۔دونوں وفود نے اس موقع پر دونوں ممالک کے مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ سیاحت کا شعبہ معاشی ترقی اور خوشحالی کا ایک بنیادی محرک ہے۔دونوں فریقین نے مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف ترجیحی شعبوں میں عملی راستے طے کیے، جن میں پائیدار ترقی، سیاحتی مسابقت میں اضافہ، سرمایہ کاری کی کشش اور تجربات کا تبادلہ شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande