
کیف (یوکرین)، 15 جون (ہ س)۔ روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات کے وقت بڑا حملہ کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق دارالحکومت پر ہونے والے روسی حملے کے بعد شہر کے وسط میں واقع یوکرین کا معروف مذہبی خانقاہ آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ کم از کم 20 افراد جھلس گئے۔ حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیف پیچیرسک لاورا خانقاہ سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔ اس خانقاہ کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کی ہنگامی خدمات کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں فائر فائٹرز کمپلیکس کے ڈورمیشن کیتھیڈرل کے میناروں اور گنبدوں کے نیچے بھڑکنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
یوکرین کی وزیرِ ثقافت تیتیانا بریژنا نے اپنے بیان میں کہا، ’’روسی حملے میں ڈورمیشن کیتھیڈرل کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘
یوکرین کے میٹروپولیٹن ایپیفینیئس نے اس مقدس مقام کو تباہی سے بچانے کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق اس حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 20 سے زائد جھلس گئے۔
شہر کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق حملے کے نتیجے میں کیف کے شمالی حصے میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔
کیف پیچیرسک لاورا خانقاہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ سال 2023 میں اسے ’’روسی حملوں سے تباہی کے خطرے‘‘ کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ گیارہویں صدی میں قائم ہونے والی اس خانقاہ کے بارے میں یونیسکو کا کہنا ہے کہ صدیوں سے یہاں کی غاروں میں مقدس شخصیات کی باقیات دفن کی جاتی رہی ہیں۔
یوکرین کے وزیرِ داخلہ ایہور کلیمینکو کے مطابق شمال مشرقی شہر خارکیف میں روسی بمباری کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ پانچ دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو جاری تھی۔ کریملن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی بات چیت کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد