
کولکاتہ، 15 جون (ہ س)۔
آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کی نئی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پیر کو اسپتال کا دورہ کیا۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کیس کے مختلف پہلوو¿ں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کر دیا۔
21 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کے مشرقی علاقہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی اور اس معاملے کی نئی تحقیقات کا حکم دیا۔ عدالت کی ہدایت کے بعد تفتیشی ادارے نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
سی بی آئی ذرائع کے مطابق واقعہ کے دن ڈیوٹی پر موجود اسپتال کے عملے اور سیکورٹی اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ متعدد افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد اکٹھے کر رہی ہے اوراسپتال کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور واقعے کے دن اور اس سے پہلے کے دنوں کے ڈیوٹی روسٹر کی مکمل جانچ کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ایجنسی واقعات کی ترتیب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جائے وقوعہ کی از سر نو تشکیل بھی کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسپتال کے احاطے کے اندر مختلف مقامات کا معائنہ کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ اگست 2024 میں آر جی کر اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران کولکاتہ پولیس نے ایک شہری والینٹیئر سنجے رائے کو گرفتار کیا۔ بعد میں کیس سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے بعد سیالدہ کی عدالت نے سنجے رائے کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ متاثرہ کے والدین سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات سے مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے دوبارہ تفتیش اور ایک نئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس کے بعد جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس تیرتھنکر گھوش پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ