خوفناک سڑک حادثہ میں دوسگے بھائی جاں بحق
فتح آباد، 15 جون (ہ س)۔ ہریانہ کے فتح آباد ضلع کے رتیا-میرانہ روڈ پر ایک خوفناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار، بے قابو پک اپ ٹرک نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ المناک حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار دو بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ مرنے
خوفناک سڑک حادثہ میں دوسگے بھائی جاں بحق


فتح آباد، 15 جون (ہ س)۔ ہریانہ کے فتح آباد ضلع کے رتیا-میرانہ روڈ پر ایک خوفناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار، بے قابو پک اپ ٹرک نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ المناک حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار دو بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں کی شناخت پلاٹا گاو¿ں کے رہنے والے کرم سنگھ اور رنجیت سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔حادثہ کے بعد ملزم ڈرائیور گاڑی کو جائے وقوعہ پر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

پولیس کی معلومات کے مطابق کرم سنگھ اور رنجیت سنگھ کسان تھے اور مشترکہ طور پر تقریباً 18 ایکڑ زمین کے مالک تھے۔ پیر کے روز دونوں بھائی کسی ذاتی کام سے پٹواری سے ملنے تحصیل رتیا گئے ہوئے تھے۔ تحصیل دفتر سے کام ختم کرنے کے بعد وہ موٹر سائیکل پر اپنے گاو¿ں پلاٹا جا رہے تھے کہ میرانا گاو¿ں کے قریب مخالف سمت سے آنے والے ایک بے قابو پک اپ ٹرک نے ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ ٹکر لگنے سے دونوں بھائی اپنی موٹر سائیکل سمیت سڑک سے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی آواز سن کر قریبی گاو¿ں والے فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ راہگیروں اور گاو¿ں والوں کی مدد سے انہیں رتیا سول اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ میں کہرام مچ گیا، پولیس کی ٹیم فوری طور پر اسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

صدر پولیس اسٹیشن کے انچارج پرہلاد رائے نے خود جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے حادثہ سے پک اپ ٹرک کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ملزم ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تاہم گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کی بنیاد پر اس کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ کرم سنگھ اور رنجیت سنگھ چار بھائی تھے جن میں سے یہ دونوں سب سے چھوٹے تھے۔ جاں بحق ہونے والے دونوں بھائیوں میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ چاروں بچے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا کر مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande