
کولہاپور، 15 جون (ہ س) مراٹھا ریزرویشن تحریک کے سرکردہ رہنما منوج جرانگے نے کہا ہے کہ ستارا اور کولہاپور گزٹ کے مکمل نفاذ کے لیے مراٹھا سماج کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس مراٹھی عوام کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔ کولہاپور کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منوج جرانگے نے کہا کہ انہوں نے شری امبابائی مندر میں حاضری دی اور بعد ازاں نئے راجواڑے میں جا کر رکنِ پارلیمنٹ شاہو مہاراج سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران مراٹھا برادری کو بلا امتیاز ریزرویشن فراہم کرنے اور کولہاپور گزٹ کے نفاذ سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جرانگے نے کہا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پرساد لاڈ اور وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کے ذریعے مناسب موقف اختیار کیا ہے، جبکہ نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت کا رویہ دھوکہ دہی پر مبنی تھا اور اگر دوبارہ ایسا ہوا تو نقصان حکومت ہی کو ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت کو بہتر کام کرکے مراٹھا سماج کے دل جیتنے چاہئیں اور سیاست بھی وہی کرے جو عوام کے اعتماد پر پورا اترے۔
انہوں نے مراٹھا کنبی سماج کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور عزم ظاہر کیا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، آنناساہب پاٹل اقتصادی ترقیاتی کارپوریشن کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ منوج جرانگے نے دعویٰ کیا کہ ریزرویشن کے معاملے میں ستارا اور کولہاپور گزٹ کا سو فیصد نفاذ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے مراٹھا سماج کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسان شکتی پیٹھ شاہراہ منصوبہ نہیں چاہتے تو اسے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر بابا پارٹے، دلیپ دیسائی اور شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کے وجئے دیونے سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
آج صبح کولہاپور پہنچنے کے بعد منوج جرانگے پاٹل نے شری امبابائی مندر میں درشن کیے اور کسانوں کو انصاف ملنے کی دعا کی۔ بعد ازاں وہ نیو پیلس گئے جہاں انہوں نے شاہو مہاراج سے ملاقات کرکے مختلف امور پر بات چیت کی۔ واضح رہے کہ منوج جرانگے پاٹل نے شدید گرمی کے دوران انتر والی ساراٹی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اس دوران انہوں نے ریزرویشن کے لیے حیدرآباد اور ستارا گزٹ کا ذکر کیا تھا، لیکن کولہاپور گزٹ کا حوالہ نہیں دیا تھا، جس پر شاہو مہاراج نے ناراضی ظاہر کی تھی۔ جس کے بعد مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر ریاستی حکومت کے مثبت رویے کے بعد جرانگے پاٹل نے اپنی تحریک واپس لے لی تھی۔ اسی پس منظر میں ان کا موجودہ دورۂ کولہاپور اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے