
مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 4 جولائی سے مراٹھواڑہ میں دوبارہ تحریک کا انتباہشولاپور، 15 جون (ہ س)۔ کسان قرض معافی سے متعلق حکومتی حکمنامے (جی آر) میں ترمیم کے مطالبے پر پنڈھرپور میں جاری رکنِ اسمبلی روہت پوار کی غذائی احتجاجی تحریک بالآخر معطل کر دی گئی ہے۔ ریاستی وزیر گریش مہاجن نے احتجاجی مقام کا دورہ کرکے روہت پوار سے تفصیلی بات چیت کی اور کسانوں کے مختلف مطالبات پر مشتمل یادداشت بھی قبول کی۔اطلاعات کے مطابق وزیر گریش مہاجن رات تقریباً سوا دس بجے احتجاجی مقام پر پہنچے تھے۔ مذاکرات کے دوران انہوں نے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔ اس کے بعد روہت پوارنے اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے اپنی تحریک عارضی طورپر معطل کرنے کا اعلان کیا کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر مثبت موقف اختیار کرے گی۔ روہت پوار نے بتایا کہ 22 جون سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی اجلاس سے قبل وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ ایک اہم نشست منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ 30 جون سے قرض معافی پر عمل درآمد شروع ہونے والا ہے، اس لیے اس سے پہلے ضروری ترامیم شامل کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر ہونے والی بات چیت میں مختلف کسان رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں راجو شیٹی، اجیت نولے، ششیکانت شندے، ہرش وردھن سپکال، روی کانت تپکر، شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) کے نمائندے، شیتکاری کامگار پارٹی کے جینت پاٹل، مہادیو جانکر اور دیگر کسان رہنماؤں کو مذاکراتی عمل میں شریک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔روہت پوار نے خبردار کیا کہ اگر قرض معافی سے متعلق دو اہم شرائط کے بارے میں اطمینان بخش فیصلہ نہ کیا گیا تو 4 جولائی سے مراٹھواڑہ خطے میں دوبارہ تحریک شروع کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو مذاکرات اور مسئلے کے حل کا موقع دینے کے لیے فی الحال احتجاج معطل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گریش مہاجن نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس، دونوں کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار بار قرض معافی کی ضرورت اسی لیے پیش آتی ہے کیونکہ کسان مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، لہٰذا حکومت ان کی مدد کے لیے ایسے فیصلے کرتی ہے۔گریش مہاجن نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں کے پانی کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ روہت پوار کے مطالبات پر غور کے لیے ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ بات چیت کے ذریعے کوئی مناسب حل ضرور نکل آئے گا۔ انہوں نے روہت پوار سے اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک مکمل طور پر واپس لے لیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے