اڈیشہ میں ایک خاندان کے سماجی بائیکاٹ کا انسانی حقوق کمیشن نے نوٹس لیا
نئی دہلی، 15 جون (ہ س)۔ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے اڈیشہ کے سندر گڑھ ضلع میں پیش آنے والے ایک غیر انسانی واقعہ کا از خود نوٹس لیا ہے۔ مہولڈیہا گاؤں کا ایک خاندان گزشتہ 12 سالوں سے مبینہ سماجی بائیکاٹ کا سامنا کر رہا تھا۔ اسی دوران جب
اڈیشہ میں ایک خاندان کے سماجی بائیکاٹ پرانسانی حقوق کمیشن  کی سرزنش


نئی دہلی، 15 جون (ہ س)۔ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے اڈیشہ کے سندر گڑھ ضلع میں پیش آنے والے ایک غیر انسانی واقعہ کا از خود نوٹس لیا ہے۔ مہولڈیہا گاؤں کا ایک خاندان گزشتہ 12 سالوں سے مبینہ سماجی بائیکاٹ کا سامنا کر رہا تھا۔ اسی دوران جب ایک بزرگ خاتون کی موت ہو گئی تو گاؤں والوں نے اس کی آخری رسومات میں مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ کمیشن نے پیر کو ریاست کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا اور انہیں دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع تقریباً 12 سال قبل شروع ہوا تھا۔ متاثرہ کی بیٹی کچھ دیر کے لیے دوسری ذات کے ایک شخص کے ساتھ فرار ہوگئی تھی۔ اس سے ناراض ہو کر گاؤں والوں نے اہل خانہ پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ خاندان انتہائی غریب تھا اور جرمانہ ادا کرنے سے قاصر تھا، اس لیے گاؤں والوں نے پورے خاندان کو معاشرے سے بے دخل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس سماجی بدنامی کو 12 سال تک برداشت کرنے کے بعد حال ہی میں اس خاندان کی بزرگ خاتون کا انتقال ہو گیا۔ گاؤں والوں نے بیٹی یا خاندان کی آخری رسومات میں مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس غیر انسانی رویہ کے بعد مقامی انتظامیہ نے مداخلت کی۔ انتظامیہ اور بعض مقامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے تعاون اور فعال کوششوں سے بزرگ خاتون کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande