
امپھال، 15 جون (ہ س)۔ منی پور کے کانگ پوکپی ضلع میں پیر کو فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے تین کوکیوں کو علاج کے لیے وہاں لائے جانے کے بعد ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ریمس) اسپتال کے احاطے میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ احتجاج بتدریج پرتشدد شکل اختیار کر گیا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز کو بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔
اطلاعات کے مطابق کانگ پوکپی ضلع کے لیلون وائیفی اور کونساکھول گاو¿ں کے قریب مبینہ فائرنگ میں زخمی ہونے والے تین افراد کو خصوصی علاج کے لیے ریمس میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کے پہنچنے پر مظاہرین کی بڑی تعداد ہسپتال کے مین گیٹ پر جمع ہو گئی اور ان کے داخلے کی مخالفت میں نعرے لگانے لگے۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب کچھ مظاہرین حفاظتی حصار توڑ کر ہسپتال کے احاطے میں داخل ہو گئے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ زخمیوں کا تعلق حریف کوکی گروپوں سے ہے۔ دریں اثنا، آل ناگا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن منی پور (اے این ایس اے ایم) کے نمائندوں نے سیکورٹی فورسز کے زخمیوں کو اسپتال لے جانے پر سوال اٹھایا اور اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے بڑھتے ہی کچھ لوگ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھنے لگے، جس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے امن و امان برقرار رکھنے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جس کے بعد مظاہرین اسپتال کے احاطے سے پیچھے ہٹ گئے۔تاہم اسپتال کے باہر مختلف گروپوں کا احتجاج جاری رہا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے ریمس کے اندر اور اس کے ارد گرد سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ آخری اطلاعات تک، کسی اضافی زخمی یا گرفتاری کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan