
نئی دہلی، 15جون(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے امریکی حملے میں تین بھارتی شہریوں کی موت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی بھارت میں ایک مضبوط وزیرِ اعظم ہوگا، جو امریکہ سے ہر توہین اور ہر بھارتی کی ہلاکت کا بدلہ لے گا۔ بھارتی جہازوں پر جن بھارتیوں کی جانیں گئی ہیں، ان کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ ٹرمپ ایک بزدل اور بے رحم قاتل ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی حملے میں بھارتی شہریوں کی ہلاکت کے باوجود وزیرِ اعظم نریندر مودی ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرجوش نظر آتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ اگر ہمارے وزیرِ اعظم کمزور اور خاموش ہیں تو 140 کروڑ بھارتی بھی کمزور اور خاموش رہیں گے۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس ( ٹوئٹر) پر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ جن بھارتیوں کی جانیں گئی ہیں، اس کے لیے آپ کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ آپ ایک بزدل اور بے رحم قاتل ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وزیرِ اعظم مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ لیکن بہت جلد بھارت کو ایک مضبوط وزیرِ اعظم ملے گا، جو آپ کو آپ کے جرائم کی سزا ضرور دے گا۔اروند کیجریوال نے ایک ویڈیو پیغام میں مزید کہا کہ آج پورے ملک کا خون کھول رہا ہے اور لوگ شدید غصے میں ہیں۔ ٹرمپ نے تین بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ 8 جون، 10 جون اور 11 جون کو ہونے والے ان حملوں کے دوران جہازوں میں 68 بھارتی سوار تھے، جن میں سے تین بھارتی شہری مارے گئے۔ لیکن ہمارے وزیرِ اعظم نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ 8 جون کو حملہ ہوا، وزیرِ اعظم خاموش رہے۔ 10 اور 11 جون کو بھی حملے ہوئے، تب بھی مودی جی خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون کو ٹرمپ نے ٹوئٹ کرکے وزیرِ اعظم مودی کو طویل ترین مدت تک عہدے پر رہنے والا وزیرِ اعظم بننے پر مبارکباد دی۔ اس کے جواب میں وزیرِ اعظم نے بھی ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔ آخر اس کا کیا مطلب ہے؟ وزیرِ اعظم اُس شخص کے ساتھ کام کرنے کے لیے کیوں پُرجوش ہیں جس نے تین بھارتیوں کی جان لے لی؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ حد تو اس وقت ہوگئی جب ہمارے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے بات کی تو امریکہ نے الٹا بھارت کو ہی دھمکی دے دی۔ امریکہ نے تین بھارتیوں کی موت پر نہ افسوس کا اظہار کیا اور نہ ہی تعزیت کی۔ اس نے ہمارے وزیرِ خارجہ کو دھمکی دی کہ اگر امریکی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر مودی جی ٹرمپ کے سامنے اتنے مجبور کیوں ہیں؟ انہوں نے ٹرمپ کے سامنے پورے ملک کی ناک کٹوا دی اور بھارت کی توہین کرائی۔ اگر روس، چین، ایران یا کسی اور ملک کا ایک بھی شہری مارا جاتا تو کیا وہ ملک خاموش رہتا؟ آج ہمارے ملک کا وزیرِ اعظم خاموش کیوں ہے؟ آخر ان کی کیا مجبوری ہے؟اروند کیجریوال نے کہا کہ میں ٹرمپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک قاتل ہیں۔ آپ نوبیل امن انعام چاہتے ہیں اور خود کو خدا سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک قاتل ہیں۔ ٹرمپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر آج ہمارے ملک کا وزیرِ اعظم کمزور ہے تو 140 کروڑ بھارتی بھی کمزور ہیں۔ بھارت کے لوگ کمزور نہیں ہیں۔ اگر وزیرِ اعظم خاموش ہیں تو ہم خاموش رہنے والے نہیں ہیں۔ ہماری پانچ ہزار سالہ تہذیب ہے۔ بہت جلد بھارت میں ایک مضبوط وزیرِ اعظم ہوگا اور ٹرمپ نے بھارت کی جتنی توہین کی ہے اور جتنے بھارتیوں کی جانیں لی ہیں، ان سب کا حساب امریکہ اور ٹرمپ سے لیا جائے گا۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے پنجاب امور کے انچارج اور دہلی کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ جب وزیرِ اعظم بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو ہوائی اڈوں پر ان کے استقبال اور تالیاں بجانے کے لیے وہاں مقیم بھارتیوں کو جمع کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرکے مودی جی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک بھارتی ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا مودی جی بھی بیرونِ ملک رہنے والے بھارتیوں سے محبت کرتے ہیں؟ امریکہ کے ہاتھوں بھارت کے تین شہری مارے گئے، مگر وزیرِ اعظم نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مودی جی کے استقبال کے لیے ہوائی اڈوں پر تالیاں بجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج لاکھوں بھارتی سمندری جہازوں پر کام کر رہے ہیں اور خوفزدہ ہیں کہ کہیں امریکی حملوں کا شکار نہ ہو جائیں۔ ان کے اہلِ خانہ پریشان ہیں اور کروڑوں بھارتی ان کی سلامتی کے لیے فکرمند ہیں، لیکن مودی جی ایک لفظ نہیں بول رہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ تک نہیں کیا کہ میں نے اپنے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو صاف کہہ دیا ہے کہ بھارتیوں پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔منیش سسودیا نے مزید کہا کہ امریکہ کے وزراءبھارت کو دھمکیاں دے کر چلے جاتے ہیں اور ہمارے وزیرِ اعظم خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ آج کل عوام کے درمیان یہ بات زیرِ بحث ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی جی کی کوئی ایسی کمزور رگ پکڑ رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ ٹرمپ کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں بولتے۔ اگر یہ بات درست نہیں ہے تو پھر قوم کو دکھا دیجیے کہ 56 انچ کا سینہ کیا ہوتا ہے۔
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais