
تہران،15جون(ہ س)۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ خلیجی ملکوں کے ساتھ بہت سے متنازع مسائل حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ پڑوسی ممالک فوجی کارروائیوں کے اثرات کا شکار ہوئے۔نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق انہوں نے متعدد ایرانی میڈیا اداروں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران اپنے بیانات میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں سفارت کاری کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔مسعود پزشکیان نے اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اپنے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قال?باف پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی کہ جنگ اور مذاکرات کا فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم کو غدار قرار دینا افسوسناک ہے۔ جنگ اور مذاکرات کا فیصلہ رہبرِ اعلیٰ اور قومی سلامتی کونسل کے ہاتھ میں ہے اور ہر ایک پر اس کی پابندی لازم ہے۔ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ سرکاری ٹیلی ویڑن پر جو بحث کی جاتی ہے وہ سپریم لیڈر اور قومی سلامتی کونسل کی ہدایات کی عکاسی نہیں کرتی۔ ایران میں بڑے فیصلے صرف قانونی ذرائع سے ہی کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے مزید کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بات چیت جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔
مسعود پزشنکیان نے اشارہ کیا کہ ایران اپنی تاریخ کے حساس ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایران کے لیے سب سے خطرناک خطرہ اندرونی تقسیم ہے۔ دوسری جانب ایرانی فضائیہ کے کمانڈر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات پر لبیک کہیں اور ہر اس چیز سے گریز کریں جو ایران کی وحدت اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز ایرانی دارالحکومت تہران اور مشہد شہر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کو مسترد کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں کےدوران وزیر خارجہ اور ایرانی مذاکراتی ٹیم پر تنقید کی گئی۔ مظاہرین نے واشنگٹن کے ساتھ مجوزہ مفاہمتوں کی مذمت میں نعرے بھی لگائے اور ان کا ماننا تھا کہ اس کی بعض شقیں ایرانی قیادت کے رجحانات اور جوہری معاملے کے حوالے سے ان کے اعلانیہ موقف سے متصادم ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ایرانی خبر رساں ادارے’فارس‘ نے عباس عراقچی پر تنقید کی اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کو تقویت دی ہے۔ایرانی ایجنسی ’فارس‘ کا خیال تھا کہ عراقچی کی جانب سے میڈیا سے معاہدے کے مواد کے بارے میں قیاس آرائیاں نہ کرنے کی اپیل اور بعض امریکی دعووں کی براہ راست تردید نہ کرنا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے راستے پر ایران کے اندر موقفوں میں تفاوت کی عکاسی کرتا ہے۔
یاد رہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’اسلام آباد مفاہمت‘ کی یادداشت پر عمل درآمد کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے میں قریب تر ہو گیا ہے۔انہوں نے تصدیق کی تھی کہ اس کی تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ امریکی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف دونوں نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اتوار کو معاہدے پر دستخط کی توقع رکھتے ہیں۔ واضح رہے تہران نے دستخط کے وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan