ٹرمپ نے امریکہ ایران امن معاہدے کے لیے پوتن اور شی جن پنگ کی تعریف کی
ماسکو، 15 جون (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 108 دن تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد طے پانے والے امن سمجھوتے کو حاصل کرنے میں تعاون کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی تعریف کی ہے۔ ایک انٹرو
ٹرمپ نے امریکہ ایران امن معاہدے کے لیے پوتن اور شی جن پنگ کی تعریف کی


ماسکو، 15 جون (ہ س)۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 108 دن تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد طے پانے والے امن سمجھوتے کو حاصل کرنے میں تعاون کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی تعریف کی ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دونوں رہنماو¿ں کی شراکت کو اہم قرار دیا۔

روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک، رشیا ٹوڈے کے مطابق، ٹرمپ کے تبصرے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران تنازع کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس کی ثالثی پاکستان اور قطر نے کی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت میں کسی ٹول کے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران پر عائد بعض امریکی پابندیوں سے نجات اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسی دفعات شامل ہیں۔ توقع ہے کہ معاہدے پر باضابطہ طور پر اگلے جمعہ کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے۔

معاہدے کے تحت توقع ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرے گا جب کہ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی معاملات پر مذاکرات آئندہ 60 دنوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔

انٹرویو میں، ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو انتہائی شریف آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ایسے اقدامات سے گریز کیا جو امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست تصادم کا باعث بن سکتے تھے۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی امن کوششوں کی بھی تعریف کی۔

روس نے تنازعہ کے دوران کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی حل کی مسلسل وکالت کی۔ ماسکو نے امریکہ اسرائیل حملوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بلا اشتعال مسلح جارحیت قرار دیا۔ تنازع شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ اور پوتن کے درمیان کئی ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande