
نئی دہلی، 15 جون (ہ س)۔
کانگریس پارٹی نے خلیج عمان میں امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ حکومت اپنے شہریوں کی اموات پر خاموش کیوں ہے۔ متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی نے عالمی سطح پر حکومت کے موقف کو انتہائی کمزور اور مایوس کن قرار دیا۔
کانگریس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمس کی صدر سپریہ شرینیت نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ11جون کو عمان کی خلیف میں ایم ٹی سیٹیبیلو جہاز پر امیرکی حملے میں بھارت کے تین بہادر ملاح ہماچل پردیش سے آدتیہ شرما، اتر پردیش سے شیوانند چورسیا، اور آندھرا پردیش کے پٹنالہ سریش کی موت ہو گئی ۔ اس جنگ میں بھارت کا کوئی لینا دینا نہیں اس کے باوجود بھارتی شہری اس جنگ کی زد میں آ کر مارے جا رہے ہیں۔
شرینیت نے سوال کیا، جب وزیر اعظم مودی اپنے آئندہ غیر ملکی دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، تو کیا وہ اس سنگین مسئلے کو ان کے ساتھ اٹھائیں گے اور ہندوستانیوں پر اس بزدلانہ حملے کا جواب مانگیں گے؟
کانگریس لیڈر نے وزارت خارجہ کی طرف سے کی گئی سفارتی کارروائی کو ناکافی اور محض رسمی مشق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی قائم مقام سفیر کو طلب کیا اور محض خاموش احتجاج کا اظہار کیا۔ اس کے برعکس امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معافی مانگنے یا اظہار تعزیت کرنے کے بجائے اس پرتشدد کارروائی کو جواز فراہم کیا جس کی حکومت نے تاحال تردید بھی نہیں کی۔
شرینیت نے کہا کہ ہندوستان کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرنے کے بجائے حکومت مکمل طور پر امریکہ کے تابع نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کا دورہ جو آئندہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستان آرہا ہے، اب اس کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ امریکہ نے ہمارے شہریوں کی جانیں لی ہیں اور افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے ملک کی مسلسل تذلیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ