مانسون اجلاس میں پیش ہوگامہاراشٹر خواتین کسان بااختیاری 2026 بل
خواتین کسانوں کو آزاد کسان کی قانونی حیثیت دینے کی تجویز ،سرکاری اسکیموں کے فوائد براہِ راست مستحق خواتین تک پہنچانے پر زورممبئی ، 15 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر کے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر آئندہ مانسون اجلاس میں ’’مہاراشٹر خواتین کسا
مانسون اجلاس میں پیش ہوگامہاراشٹر خواتین کسان بااختیاری 2026 بل


خواتین کسانوں کو آزاد کسان کی قانونی حیثیت دینے کی تجویز ،سرکاری اسکیموں کے فوائد براہِ راست مستحق خواتین تک پہنچانے پر زورممبئی ، 15 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر کے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر آئندہ مانسون اجلاس میں ’’مہاراشٹر خواتین کسان بااختیاری بل 2026‘‘ پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد ریاست کی لاکھوں خواتین کسانوں کو آزاد کسان کی قانونی شناخت فراہم کرنا اور حکومت کی مختلف فلاحی و زرعی اسکیموں کے فوائد براہِ راست ان تک پہنچانا ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کی رہنمائی میں اس بل کا حتمی مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ بل کے ذریعے زرعی شعبے میں سرگرم خواتین کو مساوی حقوق، مواقع اور سرکاری سہولتوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ریاست مہاراشٹر کے زرعی شعبے میں خواتین کی شمولیت 81 فیصد سے زائد ہے۔ بیج بونا، فصل لگانا، کٹائی، مویشیوں کی دیکھ بھال، دودھ کا کاروبار، پولٹری، سبزیوں کی پیداوار اور جنگلاتی پیداوار کے حصول سمیت متعدد سرگرمیوں میں خواتین کا نمایاں کردار ہوتا ہے، لیکن زمین ان کے نام نہ ہونے کے باعث اکثر انہیں سرکاری طور پر ’’کسان‘‘ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اسی وجہ سے خواتین کسان قرض، امداد، فصل بیمہ، زرعی اسکیموں اور دیگر سرکاری سہولتوں سے محروم رہ جاتی ہیں۔ مجوزہ بل اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔خواتین کسانوں کو متوقع فوائد : بل کے تحت خواتین کو پہلی مرتبہ آزاد کسان کی قانونی حیثیت حاصل ہوگی، جس سے زرعی شعبے میں ان کے کردار کو باضابطہ تسلیم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ خواتین کسان مختلف سرکاری زرعی اسکیموں، امدادی پروگراموں، معیاری بیج، کھاد، فصل بیمہ، زرعی تربیت، منڈیوں تک رسائی اور دیگر سہولتوں سے آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں سے زرعی قرض کے حصول کا عمل بھی نسبتاً آسان بنایا جائے گا، جبکہ خواتین کسانوں کا ایک علیحدہ ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے گا تاکہ مستحقین کی درست نشاندہی ہو سکے اور فوائد شفاف انداز میں براہِ راست منتقل کیے جا سکیں۔بل میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، تربیت، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل، منڈیوں تک رسائی اور زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافے سے متعلق سہولتوں کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ خواتین کو مختلف سماجی تحفظ کی اسکیموں سے جوڑنے کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔یہ بل صرف روایتی کھیتی باڑی کرنے والی خواتین تک محدود نہیں ہوگا بلکہ زراعت اور اس سے منسلک مختلف شعبوں میں سرگرم خواتین کو بھی اس کے دائرے میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں مویشی پروری، دودھ کا کاروبار، پولٹری فارمنگ، شہد کی مکھیوں کی پرورش، ماہی گیری، ریشم کی صنعت، باغبانی، پھولوں کی کاشت، مشروم کی پیداوار، زرعی جنگلات اور جنگلاتی پیداوار جمع کرنے والی خواتین شامل ہوں گی۔ اسی طرح بے زمین خواتین کسان، کرایہ دار خواتین کسان، زرعی مزدور خواتین، چرائی کے پیشے سے وابستہ خواتین اور نقل مکانی کرنے والی زرعی کارکن خواتین کو بھی بل کے دائرے میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔خواتین کسانوں کی ترقی اور بااختیاری کے لیے ایک علیحدہ ’’مہاراشٹر ریاستی خواتین کسان فنڈ‘‘ قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور جاری ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے خصوصی منصوبے، تربیتی پروگرام اور مالی امداد زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکے گی۔بل کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاست، ضلع، تعلقہ اور دیہی سطح پر مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ریاستی نگرانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو قانون کے نفاذ اور اس کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے گی۔مجوزہ ’’مہاراشٹر خواتین کسان بااختیاری بل 2026‘‘ کو صرف ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ خواتین کسانوں کو عزت، شناخت، حقوق اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کسانوں کی بااختیاری سے نہ صرف زرعی شعبہ مضبوط ہوگا بلکہ دیہی معیشت کو بھی نئی توانائی حاصل ہوگی۔ہندوستھان سماچار-------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande