
بیڑ، 15 جون (ہ س)۔بیڑ ضلع سے گزرنے والی مختلف شاہراہوں پر 54 حادثہ زدہ مقامات (بلیک اسپاٹس) کی موجودگی کے باوجود سڑکوں کے کنارے واقع خطرناک کنوؤں کا مسئلہ انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ سماجی کارکن ڈاکٹر گنیش دھولے (لمباگنیشکر) نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک محکمہ کی غفلت کے باعث یہ کنویں مستقبل میں بڑے حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہات نتن گڈکری، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ضلع کلکٹر کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ڈاکٹر گنیش دھولے نے سولاپور ضلع کے تعلقہ مالشیراس کے تاندلوواڑی کے قریب پیش آنے والے حالیہ المناک حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیودرشن سے واپس آنے والی ایک پک اَپ گاڑی سڑک کنارے موجود کنویں میں گر گئی تھی۔ اس حادثے میں 14 افراد میں سے پانچ خواتین اور چھ ماہ کے ایک شیرخوار بچے سمیت آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے مزید یاد دلایا کہ اس سے قبل ناسک ضلع کے دنڈوری علاقے میں بھی سڑک کنارے واقع ایک کنویں کا اندازہ نہ ہونے کے سبب ایک کار سیدھی کنویں میں جا گری تھی، جس کے نتیجے میں نو افراد کی جان چلی گئی تھی۔ مرنے والوں میں سات کمسن بچے بھی شامل تھے۔ڈاکٹر گنیش دھولے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے سانحات کے باوجود انتظامیہ بیدار ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا انتظامیہ کسی اور ایسے ہی افسوسناک حادثے کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کر رہی ہے؟
ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے