
دمشق،14جون(ہ س)۔
شام کے صدر احمد الشرع نے شام کی افواج کے لبنان میں داخلے کے امکان سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کردی۔ اس سے قبل جب اس تناظر میں امریکی دباو¿ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ شامی نیوز ایجنسی سانا کے مطابق احمد الشرع نے ایک ملاقات کے دوران دمشق کے دیہی علاقوں کے معززین اور عمائدین کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کے لبنان میں داخل ہونے کے بارے میں جو کچھ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جہاں تک سرحدوں کے تعین کا تعلق ہے تو یہ موجودہ وقت میں ترجیح نہیں ہے۔ خاص طور پر لبنان میں جاری بحرانوں اور اندرونی نقل مکانی کے پیش نظر یہ ترجیح نہیں ہے۔ اس نقل مکانی کا اندازہ تقریباً ڈیڑھ ملین افراد لگایا گیا ہے۔ شامی صدر نے زور دیا کہ لبنان کے ساتھ سرحد کے حوالے سے بعد میں بہت سے حل سامنے آئیں گے۔ ایک سفارتی ذریعے نے جمعرات کو فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ امریکہ 2 مارچ کو اسرائیل اور لبنان میں حزب اللہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے شام پر دباو ڈال رہا ہے کہ وہ اس پڑوسی ملک میں حزب اللہ کے خلاف مداخلت کرے جس کے ساتھ اس کی ایک طویل سرحد ملتی ہے۔
احمد الشرع کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ جاری ہے۔ لبنانی حکام اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کی حزب اللہ سخت مخالفت کرتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران نواز گروپ کے خلاف شام سے مداخلت کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ لبنان کی زندگی بہتر ہو۔ میں حزب اللہ پر زیادہ درست حملے دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہم اس میں ان کی مدد کر سکتے ہیں یا ہم شام کو سفارش کر سکتے ہیں۔
جمعرات کو شام کی وزارت داخلہ کے ترجمان نور الدین البابا نے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں کہا کہ دمشق لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ لبنان کی سکیورٹی اور لبنانی ریاست کی خودمختاری کے تحفظ میں کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی قبولیت اور بھائی چارے والے ملک لبنان کے ساتھ ہم آہنگی کسی بھی ایسے کردار کے لیے بنیادی ستون ہے جس میں شام لبنانی مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں نور الدین البابا نے کہا کہ شامی اور لبنانی فریق ان بیانات کی تشریح کرنے اور اس فارمولے پر اتفاق کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہل ہیں جو مشترکہ عرب ویڑن کے اندر دونوں ملکوں کے مفاد میں ہو۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اب بھی 2005 میں پڑوسی ملک سے شامی افواج کے انخلاءسے قبل لبنان میں شامی اثر و رسوخ کی دہائیوں پرانی میراث کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدوں کے تعین، شامی پناہ گزینوں اور سکیورٹی کوآرڈینیشن سمیت کئی معلق معاملات بھی موجود ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan