
لندن،14جون(ہ س)۔سوئٹزرلینڈ کے ووٹرز آج اتوار کو ایک ایسے مجوزہ منصوبے پر رائے دے رہے ہیں، جس کا مقصد ملک کی آبادی کی زیادہ سے زیادہ حد 10 ملین افراد مقرر کرنا ہے۔اس ریفرنڈم کو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج (بریگزٹ) کے لیے ہونے والے ووٹ سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات معیشت اور برن کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔یہ آئینی ترمیم دائیں بازو کی جماعت سوئس پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے، جس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی آبادی کو 2050 تک 10 ملین سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ اقدام امیگریشن، عوامی خدمات پر دباو¿ اور رہائشی بحران جیسے خدشات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔سرکاری اندازوں کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی آبادی آئندہ چند دہائیوں میں غالباً 2040 کی دہائی کے اوائل تک اس حد تک پہنچ سکتی ہے۔یہ تجویز یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہے، جس میں امیگریشن پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی وجہ مہنگائی، کمزور معاشی نمو اور جرائم سے متعلق عوامی تشویش بتائی جا رہی ہے۔زوریخ میں رہائش پذیر کینیا نڑاد 58 سالہ خاتون ہیلن جولی جو جز وقتی طور پر ایک دکان میں کام کرتی ہیں، نے ڈاک کے ذریعے ووٹ دیتے ہوئے کہا:اگر آبادی 10 ملین سے بڑھ گئی تو حالات مشکل ہو جائیں گے، اس لیے امیگریشن کو محدود کرنا ضروری ہے۔اس ووٹنگ کے ابتدائی نتائج مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے سامنے آنا شروع ہوں گے۔
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے، تو 10 ملین کی حد تک پہنچنے پر ایسا عمل شروع ہو سکتا ہے ،جو سوئٹزرلینڈ کو یورپی یونین کے ساتھ مزدوروں کی آزاد نقل و حرکت کے معاہدے کو ختم کرنے پر مجبور کر دے گا، جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس ملک کی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کی آبادی پہلے ہی نو ملین سے زائد ہو چکی ہے اور رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹرز اس معاملے پر شدید تقسیم کا شکار ہیں۔حالیہ سروے جو اسی ماہ کیا گیا، میں اس تجویز کی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے ایک اور سروے میں اس کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ بتائے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan