
استنبول، 14 جون (ہ س)
یوکرین نے روس کے توانائی اور صنعتی انفراسٹرکچر پر بڑا حملہ کیا ہے، جس میں یاروسلاو کے علاقے میں تیل ذخیرہ کرنے کی ایک بڑی سہولت اور تولا کے علاقے میں ازوٹ کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی روس کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور ماسکو پر دباو¿ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ترکی کی سرکاری انادولو ایجنسی کے مطابق، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے روس کے علاقے یاروسلاو میں تیل ذخیرہ کرنے کی ایک اہم تنصیب اور تولا کے علاقے میں ازوٹ کیمیکل پلانٹ پر حملہ کیا۔ ان کے مطابق یہ دونوں تنصیبات روس کی ایندھن کی فراہمی اور فوجی پیداواری صلاحیتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی فوج طویل فاصلے تک مار کرنے والی فوجی حکمت عملی کے تحت روس کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ یوکرائنی علاقوں میں روسی فوجی لاجسٹک اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد روس کے چھ ہوائی اڈوں سے پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ ملک کے 28 علاقوں میں فضائی حملے کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روس مذاکرات کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا کر اپنی فوجی جارحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ