اسرائیل کاٹرمپ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو ماننے سے انکار
تل ابیب،14جون(ہ س)۔ ایران اور امریکہ کے درمیان آج اتوار کو ویڈیو لنک کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں، تاہم اس پیش رفت کے حوالے سے اسرائیلی موقف پر بدستور ابہام پایا جاتا ہے۔اسرائیلی اخبار ''ہیوم'' کے مطابق ایک اعلیٰ سفارتی ذرائع نے
اسرائیل کاٹرمپ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو ماننے سے انکار


تل ابیب،14جون(ہ س)۔

ایران اور امریکہ کے درمیان آج اتوار کو ویڈیو لنک کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں، تاہم اس پیش رفت کے حوالے سے اسرائیلی موقف پر بدستور ابہام پایا جاتا ہے۔اسرائیلی اخبار 'ہیوم' کے مطابق ایک اعلیٰ سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے تو اسرائیل اپنی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اسے اپنے اقدامات کو امریکہ کے ساتھ مربوط کرنے کا پابند ہونا پڑے ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ رابطہ کاری بنیادی طور پر خطے کے دیگر فریقین کے حوالے سے امریکی وعدوں سے متعلق ہے۔ جب اس سوال پر ردعمل دیا گیا کہ اگر تہران نے اپنا میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیا تو اسرائیل کیا کرے گا؟تو ذرائع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ہی ایسے کسی بھی منظرنامے کو روکنا ہے۔

ذرائع نے نشاندہی کی کہ مفاہمت کی یادداشت کی تفصیلات میں ایرانی میزائلوں اور علاقائی سطح پر مسلح تنظیموں کی معاونت کے معاملات کو مذاکرات کی میز پر رکھا گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں وعدہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ ممکنہ حد تک جامع انداز میں حل کیا جائے گا، بصورت دیگر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام محرکات جن کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو جنگ کرنا پڑی، ان کا معاہدے میں احاطہ کیا جانا ضروری ہے، یعنی ایران کا جوہری پروگرام، میزائل اور تہران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیمیں جن میں سرِفہرست حزب اللہ شامل ہے۔لبنان کے حوالے سے ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ معاملہ مذاکرات میں اٹھایا گیا تھا لیکن یہ اب بھی کھلا ہے، اس مفاہمت کے ساتھ کہ حالیہ جنگ بندی معاہدے کے اصول بدستور نافذ العمل ہیں، جو اسرائیل کو کسی بھی وقت خطرہ محسوس ہونے پر حملے کی اجازت دیتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ اگر بعد میں کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو کیا ہوگا، اعلیٰ ذرائع نے کہا کہ ایرانی نظام کے خاتمے کا معاملہ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی میز پر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانیوں کو گذشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ بات چیت میں مطلع کر دیا گیا تھا کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے اہم امور پر انکار کو قبول نہیں کریں گے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا فریم ورک معاہدہ آج اتوار کو طے پا جائے گا۔ ٹرمپ نے کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر آج دستخط کیے جانے ہیں، جو ان کی اسی ویں سالگرہ کا دن بھی ہے۔دوسری جانب شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے امن معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے اور اسلام آباد آج اس پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد آنے والے دنوں میں تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی۔تاہم تہران نے وقت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جبکہ ایران میں سخت گیر حلقوں نے معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ خاص طور پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کی پوسٹ سے قبل دستخط کی تاریخ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ کل نہیں ہوگا، لیکن آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande