
تل ابیب،14جون(ہ س)۔اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ الجیل کے مغربی علاقے میں دو ڈرون طیاروں کو گرتے اور دھماکہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے تاہم اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اس حوالے سے نامہ نگار نے آج اتوار کے روز بتایا کہ قابض اسرائیل کے شمالی علاقوں میں حزب اللہ کے ڈرون طیاروں کے داخل ہونے کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی سائرن بجا دیے گئے تھے۔قابض اسرائیل کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ڈرون طیارے لبنان سے داغے گئے تھے اور ان کا ہدف راس الناقورہ کے قریب فوجی مقامات تھے جیسا کہ قابض اسرائیل کے ریڈیو نے نقل کیا ہے۔ذرائع نے مزید وضاحت کی کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران القسام بریگیڈز اور ان کی اتحادی قوتوں کے ڈرون طیاروں نے اسرائیل کے اندر اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے سفاکانہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ لبنان سے ہر راکٹ اور ڈرون حملے کے جواب میں بیروت کا جنوبی مضافاتی علاقہ لرز اٹھنا چاہیے۔یہ پیش رفت اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر جاری حملوں کے درمیان سامنے آئی ہے حالانکہ واشنگٹن میں قابض اسرائیل اور لبنان کے وفود کے درمیان چار بار مذاکرات کے دور ہو چکے ہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران آج اتوار کو ویڈیو لنک کے ذریعے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے والے ہیں جس سے اس جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا جو سنہ 2024ءمیں اٹھائیس فروری کو تہران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ایران نے گذشتہ عرصے کے دوران اس بات پر اصرار کیا ہے کہ لبنان کو جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی تصفیے یا معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے۔جبکہ قابض اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی راستے کو لبنانی راستے سے الگ کرنا ضروری ہے۔قابض اسرائیل کی حکومت نے بارہا دھمکی دی ہے کہ شمالی بستیوں پر فائرنگ کی صورت میں دارالحکومت بیروت پر شدید بمباری کی جائے گی۔
یاد رہے کہ لبنان میں جنگ کا آغاز دو مارچ سنہ 2024ءکو ہوا تھا جب حزب اللہ نے تہران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کے اٹھائیس فروری کے پہلے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں قابض اسرائیل کے شمالی علاقوں پر راکٹ برسائے تھے۔اس کے جواب میں قابض اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں لبنان میں تین ہزار سات سو چھپن افراد شہید ہوئے جبکہ قابض اسرائیل کی افواج نے جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔
اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری رہی اور واشنگٹن میں لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے بعد گذشتہ ہفتے ایک نئے مشروط جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے باوجود حالات کشیدہ ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan