
واشنگٹن،14جون(ہ س)۔اگرچہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے امید کا ماحول رہا ہے اور آج اتوار کو مفاہمتی یادداشت پر ریموٹ دستخط کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا، تاہم کچھ معاملات اب بھی غیر واضح اور زیرِ التوا ہیں۔سی این این کے مطابق ایک باخبر سفارتی ذرائع ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور ایرانی ذرائع نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے بڑے اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث کئی اہم سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ان پیچیدہ سوالات یا متنازع امور میں سب سے اہم معاملہ آبنائے ہرمز ہے، جو مجوزہ معاہدے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد یہ آبی گزرگاہ کھول دی جائے گی اور ایران کو اس پر کسی قسم کی ٹول یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی نگرانی اور بحری آمدورفت کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل ایران کی انتظامیہ کے تحت ہوگا، جبکہ واشنگٹن اس شرط کو بارہا مسترد کر چکا ہے۔
جہاں تک جوہری مواد اور اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کا تعلق ہے، تو ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، جبکہ جوہری مواد کو یا تو تباہ کیا جائے گا یا اسے منتقل کر دیا جائے گا یا ختم کیا جائے گا۔اس بیان میں خاص طور پر اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذکر کیا گیا ہے۔تاہم تہران اس سے قبل متعدد بار یہ مو¿قف اختیار کر چکا ہے کہ جوہری معاملہ، بشمول اعلیٰ افزودہ یورینیم، مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 60 روزہ مذاکراتی دور میں زیرِ بحث آئے گا۔ایران نے اپنے مو¿قف میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کو قبول نہیں کرتا۔بیرونِ ملک موجود ایران کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلے کسی بھی قسم کے فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ان کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی اس بات سے مشروط ہوگی کہ تہران اپنی شرائط پر عملدرآمد ثابت کرے، یعنی جب تک امریکی فریق کو ایران کے اقدامات پر اطمینان نہیں ہوگا، کوئی رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ منجمد اثاثوں کی واپسی مجوزہ معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی خدمات پر فیس یا ٹیکس وصول کرنے پر مجبور ہوگا۔اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطے میں غیر ملکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ہونا چاہیے، تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے رپورٹ کیا۔لبنان کے حوالے سے ایرانی فریق نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ یہ معاملہ بھی مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیل بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران اور لبنان کے معاملات کو الگ رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں موجود’سیکیورٹی زونز‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور’اپنے دفاع‘ کے لیے کارروائی جاری رکھے گا، جسے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی آزادی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس صورتحال میں آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران اپنے اپنے اتحادیوں کو کس حد تک معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کے لیے قائل کر پاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan