نیتن یاہو نے کچھ معاملات میں غلطیاں کی ہیں،نائب امریکی صدرنے کہا اسرائیلی مفادات ہمیشہ امریکہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتے
واشنگٹن ،12جون(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یقینی طور پر کچھ غلطیاں کی ہیں۔ یہ بیان ایران کے خلاف محاذ پر قریبی اتحاد کے باوجود واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو¿ کی تازہ
نیتن یاہو نے کچھ معاملات میں غلطیاں کی ہیں،نائب امریکی صدرنے کہا اسرائیلی مفادات ہمیشہ امریکہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتے


واشنگٹن ،12جون(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یقینی طور پر کچھ غلطیاں کی ہیں۔ یہ بیان ایران کے خلاف محاذ پر قریبی اتحاد کے باوجود واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو¿ کی تازہ ترین عوامی علامت ہے۔امریکی نیٹ ورک سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں وینس نے کہا کہ نیتن یاہو اپنے ملک کے مفادات کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں، لیکن یہ مفادات ہمیشہ امریکی مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ امریکی نائب صدر نے نیتن یاہو کی غلطیوں کی مخصوص مثالیں دینے سے گریز کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کچھ بحثیں بند دروازوں کے پیچھے رہنا ہی بہتر ہے۔

وینس کا یہ تبصرہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے دباو¿ کا ایک نیا عوامی اعتراف ہیں۔ خاص طور پر ان رپورٹوں کے بعد جن میں لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے فوجی حملے دوبارہ شروع ہوئے اور تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں خطرے میں پڑ گئیں۔

وینس نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کا بہت قریبی ساتھی ہے، لیکن قریبی شراکت داروں کے درمیان بھی بعض اوقات مفادات ایک جیسے ہوتے ہیں اور بعض اوقات الگ الگ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو ترجیح دیتی ہے اور جب اختلاف پیدا ہوتا ہے، تو ہمیں افسوس کے ساتھ اسرائیلیوں کے بجائے امریکی عوام کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے،جب گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دوسرے دن نئے حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے اپریل سے قائم جنگ بندی کے معاہدے پر دباو¿ مزید بڑھ گیا ہے۔جہاں ایک طرف ٹرمپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی محاصرے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران کو ختم کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں... وہاں دوسری طرف لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔تہران کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان کی صورت حال بھی شامل ہونی چاہیے، جبکہ اسرائیل کا اصرار ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جاری کارروائیاں دو ماہ قبل طے پانے والی جنگ بندی کی شرائط میں شامل نہیں ہیں۔

امریکہ کے اندر عوامی رائے کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے عوامی حمایت میں کمی آ رہی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی ووٹرز کے ایک حصے کے درمیان اسرائیل کی ساکھ بھی کم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو کو اس سال انتخابی چیلنج کا سامنا ہے، جہاں وہ اسرائیلی ووٹرز کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے خلاف محاذ پر کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔تناو¿ کے اشاروں کے باوجود نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واشنگٹن کے ساتھ اختلافات کی نوعیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ بہترین خاندانوں میں ہوتا ہے، ہمارے درمیان بعض اوقات تزویراتی اختلافات ہوتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ انہیں حل کرنے کا طریقہ تلاش کر لیتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande