ایران کے خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنااب زیرغور نہیں، امریکہ نے پیچھے کھینچے پیر
واشنگٹن،12جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ایرانی خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا اب زیرِ غور نہیں ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی سی این این نے امریکی وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار اور امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے انک
ایران کے خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنااب زیرغور نہیں، امریکہ نے پیچھے کھینچے پیر


واشنگٹن،12جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ایرانی خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا اب زیرِ غور نہیں ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی سی این این نے امریکی وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار اور امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی فوج کے منصوبے کئی ماہ سے تیار کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد سے جڑے بڑے خطرات کی وجہ سے انہیں بار بار ملتوی کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق وائٹ ہاو¿س اور پینٹاگون کے اندرونی حلقوں کا خیال ہے کہ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے یا اس کے توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے ایران کو ایسا شدید معاشی جھٹکا لگے گا جو اسے دیوالیہ کرنے اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو اس حد تک کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے جہاں وہ جنگ جاری رکھنے کے قابل نہ رہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کیا تھا کہ اس طرح کے آپریشن پر عمل درآمد کے لیے ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں زمینی افواج کو تعینات کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر امریکی جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ان ہی اندازوں کی وجہ سے وائٹ ہاو¿س اور وزارتِ دفاع نے خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کسی بھی کارروائی کو آخری مرحلے کا متبادل یا آخری چارہ کار قرار دیا ہے۔ یہ ایک ایسا آپشن ہے جو جنگ کا رخ تو بدل سکتا ہے لیکن اس کی فوجی اور سیاسی قیمت بہت زیادہ ہے۔

حکام نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ امریکی فوج ماضی میں خارک جزیرے پر فوجی تنصیبات کے خلاف کئی وسیع فضائی حملے کر چکی ہے تاہم ان کارروائیوں میں جان بوجھ کر جزیرے کے توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا کیونکہ اس کے بڑے پیمانے پر معاشی اور سٹریٹجک اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande