
ریاض ،12جون(ہ س)۔اقوامِ متحدہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو اقوامِ متحدہ کے تربیتی و تحقیقی ادارے (UNITAR) کے پہلے سائبر سکیورٹی دفتر کے قیام کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی سائبر سکیورٹی کے میدان میں سعودی عرب کے نمایاں مقام اور اس شعبے میں حاصل کردہ کامیابیوں کے اعتراف کے طور پر کیا گیا ہے۔
ریاض میں قائم یہ دفتر سائبر سکیورٹی سے متعلق پالیسیوں کی تیاری، صلاحیت سازی کے منصوبوں اور مشترکہ تحقیق اور ترقی کے پروگراموں کا آغاز کرے گا۔ اس کا مقصد عالمی سطح پر ماہرین اور متعلقہ افراد کی مہارتوں کو نکھارنا اور بین الاقوامی سطح پر سائبر سکیورٹی کو مستحکم کرنا ہے۔ اس دفتر کے اہداف کا براہِ راست تعلق سعودی عرب کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اشتراک سے شروع کردہ عالمی سائبر اسپیس صلاحیت سازی اقدام سے ہے، جس کے تحت پالیسی سازوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سفارت کاروں اور دنیا بھر کے سائبر ماہرین کی تربیت کی جائے گی۔نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مساعد العیبان نے اس انتخاب کو سعودی ماڈل کی مقامی، علاقائی اور عالمی کامیابیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے قیام اور 'سائٹ' (SITE) کمپنی کی بطور تزویراتی پارٹنر شمولیت نے اس شعبے کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ العیبان کے مطابق سعودی عرب کا شمار اب ان ممالک میں ہوتا ہے جو سائبر سکیورٹی کے عالمی مراکز کی میزبانی کر رہے ہیں، بشمول عرب سائبر سکیورٹی وزراءکونسل، ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ قائم کردہ سائبر اکانامکس سینٹر، اور انٹرنیشنل سائبر سکیورٹی فورم فاو¿نڈیشن۔
اقوامِ متحدہ کے تربیتی و تحقیقی ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مشیل میکڈونو نے کہا کہ اس پہلے عالمی دفتر کا قیام اور ریاض کو اس کا مرکز بنانا سعودی عرب کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سائبر سکیورٹی آج ایک عالمی ترجیح ہے اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر سائبر دفاع ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دفتر عالمی سطح پر موجود سائبر صلاحیتوں کے فرق کو ختم کرنے اور مشترکہ خطرات کو سائبر لچک میں تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے اداروں کو آپس میں جوڑے گا۔سعودی عرب پہلے ہی کئی اہم بین الاقوامی سائبر سکیورٹی اداروں اور کونسلز کا میزبان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت سائبر اسپیس کے استحکام کے لیے عالمی اقدامات میں ایک اہم ستون کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan