
نئی دہلی، 12 جون (ہ س)۔ بھارت کے نامور نشانہ بازی کوچ اور سابق اسٹار شوٹر جسپال رانا کا جمعرات کی دیر رات نئی دہلی کے ساکیت علاقے کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 49 برس کے تھے۔ ان کے انتقال سے بھارتی کھیلوں کی دنیا، خصوصاً نشانہ بازی کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حال ہی میں میونخ میں منعقدہ آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ سے بھارتی دستے کے ساتھ واپسی کے دوران ان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ان کا دل سے متعلق علاج کیا گیا، جس کے دوران اسٹنٹ بھی ڈالا گیا تھا۔ انتقال کے وقت وہ بھارت کی پسٹل نشانہ بازی ٹیم کے ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
جسپال رانا بھارتی نشانہ بازی کے سب سے بااثر ناموں میں شمار کیے جاتے تھے۔ کوچ کی حیثیت سے انہوں نے کئی بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیار کیے اور بھارتی نشانہ بازی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی رہنمائی میں منو بھاکر نے پیرس اولمپکس 2024 میں دو تمغے جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ وہ آزاد بھارت کی پہلی کھلاڑی بنی تھیں جنہوں نے ایک ہی اولمپکس میں دو تمغے حاصل کیے۔
کھلاڑی کے طور پر بھی جسپال رانا کا کیریئر انتہائی شاندار رہا۔ وہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں بھارت کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ انہوں نے چار ایڈیشنز میں مجموعی طور پر 15 تمغے جیتے، جن میں 9 طلائی، 4 نقرئی اور 2 کانسے کے تمغے شامل تھے۔
مسابقتی کیریئر کے بعد انہوں نے کوچنگ کو اپنا مشن بنا لیا اور منو بھاکر، سوربھ چودھری، انیش بھانوالا اور چنکی یادو جیسے باصلاحیت نشانہ بازوں کو عالمی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی کھیلوں اور کھلاڑیوں کی تربیت میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2020 میں ملک کے ممتاز دروناچاریہ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
جسپال رانا کا انتقال بھارتی نشانہ بازی کے لیے ایک ایسا نقصان تصور کیا جا رہا ہے جس کی تلافی طویل عرصے تک ممکن نہیں ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد