فیروز دہلوی دِلّی کی زبان و تہذیب کے ممتاز رمز شناس تھے: پروفیسر کوثر مظہری
فیروز دہلوی کی رحلت پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقادنئی دہلی،12جون(ہ س)۔ دہلوی زبان و تہذیب کی آخری نشانی پروفیسر محمد فیروز دہلوی کے سانحہ ارتحال پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تعزیتی اجلاس کا
فیروز دہلوی دِلّی کی زبان و تہذیب کے ممتاز رمز شناس تھے: پروفیسر کوثر مظہری


فیروز دہلوی کی رحلت پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقادنئی دہلی،12جون(ہ س)۔ دہلوی زبان و تہذیب کی آخری نشانی پروفیسر محمد فیروز دہلوی کے سانحہ ارتحال پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں صدر شعبہ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محمد فیروز دہلوی دِلّی کی زبان و تہذیب کے ممتاز رمز شناس تھے۔ انھیں دہلی کی تاریخ، روایت، شخصیات اور ادبی سرمایے سے عشق کی حد تک لگاو¿تھا۔ پروفیسر شہزاد انجم نے تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وضع داری، علمی مزاج و طبع اور حفظِ مراتب کی پاسداری بعد کے لوگوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محتاط محقق تھے۔ دہلی کی ادبی روایت سے اس قدر گہری وابستگی رکھنے والے اب تقریباً نایاب ہوگئے ہیں۔ وہ ایک بہترین اور مثالی معلم بھی تھے اور طلبا کی تربیت پر خصوصی توجہ صرف کرتے تھے۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محمد فیروز دہلوی کو اہلِ علم نہایت قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ سے اردو زبان و ادب، بالخصوص دہلوی محاوروں پر ان کی باریک بینی بھی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر شاہنواز فیاض اور ڈاکٹر نوشاد منظر نے بھی مرحوم کے لیے دعائیہ کلمات پیش کیے۔اس تعزیتی اجلاس میں شعبے کے ریسرچ اسکالرز بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کا اختتام مرحوم کے لیے دعائے مغفرت پر ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande