
نئی دہلی،12جون(ہ س)۔شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ ماہ محرم الحرام کے پہلے عشرے میں نفلی عبادتوں اور روزوں کا اہتمام کریں اور چاند دیکھ کر مسنون دعا پڑھ کر آج کے حالات کے لیے بھی دعا کریں انہوں نے کہا کہ 29 ذی الحجہ بروز منگل ماہ محرم کا چاند دیکھنے کا اہتمام کریں اور رویت ہلال کمیٹی کے روبرو شہادت پیش کریں۔ مفتی مکرم نے شملہ میں دو مسلم نوجوانوں کے ساتھ سرعام بد سلوکی اور مارپیٹ کی شدید مذمت کی اور رنج وغم کا اظہار کیا۔ شملہ کے سنجولی میں شرپسندوں نے دو مسلم نوجوانوں پر لو جہاد کا الزام لگاتے ہوئے سڑکوں پر پریڈ کرائی شدید زدوکوب بھی کیا حالانکہ ان دو نو ں مسلم نوجوانوں کا مبینہ واقعہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے اس بات کی پولیس نے بھی تصدیق کی ہے ان دونوں مسلم نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ ہجوم نے کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان دونوں مسلم نوجوانوں کو بازار میں گھسیٹا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ نہایت ظالمانہ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ سوشل میڈیا کے وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے سبھی شرارت پسندوں کو گرفتار کیا جائے سنگین دھاراو¿ں میں ان پر مقدمہ درج کیا جائے پولیس کے سامنے یہ سب کچھ ہوا یہ بھی حیرت و تعجب کی بات ہے ۔ اقلیتی فرقہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔
مفتی مکرم نے کہا کہ شاملی کے آیوش ملک نے مذہب اسلام قبول کرنے کے بارے میں میڈیا کے سامنے جو بیان دیا وہ بالکل واضح اور قانون کی نظر میں مکمل ہے وہ 25 سال کا نوجوان ہے اس نے صاف کہا کہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور سسرال والوں پر لو جہاد کا الزام بالکل غلط اور بہتان ہے اس نے اپنے سسرال والوں اور مولویوں کا دفاع کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس نے کئی سال پہلے اسلام قبول کیا تھا اور وہ اسلام مذہب کو بچپن سے پسند کرتا ہے اس پر کسی کا دباو¿ نہیں ہے اور وہ ہندو دھرم میں واپس نہیں آئے گا ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ 25 سالہ نوجوان آیوش ملک کے بیان کے بعد اس کے سسرال والوں اور مولویوں کو رہا کیا جائے جن پر جبرا تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر ان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔مفتی مکرم نے کہا کہ مذہب اسلام جبرا تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دیتا اور یہ الزام مسلمانوں پر سراسر غلط اور بے بنیاد ہے جبرا تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر بے قصوروں کو جیل میں ڈالنا قانون اور آئین کے خلاف ہے یہ ظلم ہے جو بند ہونا چاہیے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais