ٹیکم گڑھ کے سدھ ساگر تالاب میں نہانے گئے تین بچوں کی ڈوبنے سے موت، وزیر اعلیٰ نے اظہار افسوس کیا
بھوپال، 12 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ ضلع کے استون گاوں میں جمعرات کے روز سدھ ساگر تالاب میں نہانے گئے تین معصوم بچوں کی پانی میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متوفیان کے لواحقین کو مالی امد
جائے وقوعہ کی تصویر


بھوپال، 12 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ ضلع کے استون گاوں میں جمعرات کے روز سدھ ساگر تالاب میں نہانے گئے تین معصوم بچوں کی پانی میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متوفیان کے لواحقین کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ٹیکم گڑھ ضلع کے استون گاوں میں واقع سدھ ساگر تالاب میں تین معصوم بچوں کے ڈوبنے سے ہوئی موت کا واقعہ انتہائی دردناک ہے۔ میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو 4-4 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ایشور سے آنجہانی بچوں کی روح کے سکون اور متاثرہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دینے کی پرارتھنا کی ہے۔

معلومات کے مطابق، کوتوالی تھانہ علاقے کے استون گاوں میں جمعرات کو دوپہر کے وقت چار بچے کھیلتے کھیلتے سدھ ساگر تالاب پہنچ گئے تھے۔ شدید گرمی کے دوران بچے تالاب میں نہانے لگے، لیکن کچھ ہی دیر میں یہ تفریح موت میں بدل گئی۔ متوفیان کی شناخت 12 سالہ پرنس اہیروار، 13 سالہ دیپیش اہیروار اور 13 سالہ راج اہیروار کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں ایک ہی محلے کے رہنے والے اور گہرے دوست تھے۔

گاوں والوں نے بتایا کہ تالاب کے کنارے پانی کم تھا، لیکن ماضی میں مٹی کھدائی ہونے کی وجہ سے درمیانی حصے میں 10 سے 12 فٹ گہرے گڑھے بن گئے تھے۔ نہانے کے دوران بچے کھیلتے کھیلتے اسی گہرے حصے میں پہنچ گئے۔ اندیشہ ہے کہ ایک بچہ گہرائی میں پھنس گیا، جسے بچانے کی کوشش میں باقی دونوں ساتھی بھی پانی میں ڈوب گئے۔

حادثے کے وقت ان کے ساتھ موجود 12 سالہ دیو اہیروار کسی طرح خود کو بچانے میں کامیاب رہا۔ دوستوں کو پانی میں ڈوبتا دیکھ کر وہ گھبرا کر گاوں کی طرف بھاگا اور اہل خانہ اور گاوں والوں کو واقعے کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی گاوں میں افراتفری مچ گئی۔ کنچن پورہ محلے سمیت بڑی تعداد میں لوگ لاٹھیوں اور رسیوں کے ساتھ تالاب کی طرف دوڑے اور پانی میں اتر کر بچوں کی تلاش شروع کی۔ کافی مشقت کے بعد تینوں بچوں کو باہر نکالا گیا، لیکن تب تک ان کی موت ہو چکی تھی۔

استون چوکی انچارج بھوپیندر اہیروار نے بتایا کہ تالاب میں پانی کم تھا، لیکن کچھ جگہوں پر گہرے گڑھے تھے۔ ان میں چلے جانے سے تینوں بچوں کی ڈوبنے سے موت ہوئی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور پولیس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande