
رانچی، 12 جون (ہ س)۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے چارہ گھوٹالہ کےکلیدی ملزم کے طور پر شناخت کیے گئے شیام بہاری سنہا کے گھر سے ضبط کیے گئے 38 لاکھ روپے کے زیورات کو ’’استری دھن‘‘(کسی خاتون کا ذاتی اثاثہ) کے طور پر چھوڑ دینےکے نچلی عدالت کے حکم پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے شیام بہاری سنہا کے بیٹے روی سنہا اور کیس میں شامل دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے۔
یہ معاملہ چارہ گھوٹالہ کےآر سی 68/96 سے متعلق ہے، جس میں روی سنہا کو 2018 میں سزا سنائی گئی تھی۔ یہ زیورات 13 اور 14 مئی 1999 کو چھاپوں کے دوران شیام بہاری سنہا کے گھر سے ضبط کیے گئے تھے۔
ریکارڈ کے مطابق، شیام بہاری سنہا کا انتقال 1999 میں ہوااور ان کی اہلیہ راما سنہا کا انتقال 2011 میں ہوچکا ہے۔ اپنی زندگی کے دوران، راما سنہا نے استری دھن بتاتے زیورات پر کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن بعد میں ان کے بیٹے روی سنہا نے 2024 میںسی بی آئی عدالت میں ایک عرضی دائر کی، جس میں زیورات کو اس کے استری دھن ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کی رہائی کی درخواست کی۔
نچلی عدالت نے عرضی کی سماعت کے بعد زیورات کو چھوڑ دینے کا حکم دیا، جسے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سی بی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دیپک بھارتی نے دلیل دی کہ درخواست گزار نے اپنے دعوے کی تائید کے لیے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں اور پھر بھی نچلی عدالت نے حکم جاری کیا، جو کہ غیر منصفانہ تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ راما سنہا نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ان زیورات کو استری دھن کے طور پر دعویٰ نہیں کیا، اس لیے بعد کا دعویٰ مشکوک ہے۔سماعت کے بعد جج سنجے کمار دویدی کی عدالت نے نچلی عدالت کے حکم پر روک لگا دی ہے اور معاملے میں نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد