امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن تقریباً تیار ہے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران،12جون(ہ س)۔ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کی شام کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن تقریباً تیار ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے جمعرات کو بتایا کہ تہران نے ابھ
امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن تقریباً تیار ہے: ایرانی وزارت خارجہ


تہران،12جون(ہ س)۔ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کی شام کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن تقریباً تیار ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے جمعرات کو بتایا کہ تہران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ مذاکرات میں اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے وقت اور جگہ سے متعلق رپورٹس محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی متن کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے لیکن امریکہ نے بات چیت کے دوران بارہا اپنے موقف تبدیل کیے ہیں۔

اس سے کچھ دیر قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے جمعرات کو بتایا تھا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی مفاہمت کی یادداشت کے کسی متن پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ جب تک ایران ممکنہ مفاہمت کا اعلان نہیں کرتا، تب تک اس معاملے پر ٹرمپ کی جانب سے آنے والی کسی بھی خبر کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، ایسا ہی ان کے پچھلے پیغامات کے ساتھ کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کی رات ایران پر بمباری کی دھمکی کے بعد ایک لا متناہی تعطل سے خبردار کیا ہے۔ قالیباف نے ” ایکس“ پر انگریزی میں لکھا کہ غلط حکمت عملی اور لاپرواہ فیصلے منظر نامے کو بدترین شکل میں بدل دیں گے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور منڈیوں کو تباہ کر دیں گے اور ایک لا متناہی تعطل کا سبب بنیں گے جس میں آپ برسوں تک پھنسے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ ایک مختلف ایران دیکھیں گے۔اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے اس صورت میں مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کی وارننگ دی ہے اگر امریکہ نے ایران پر شدید بمباری کرنے اور جلد ہی اس کے تیل اور گیس کے شعبے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ٹرمپ کی دھمکیوں پر عمل کیا۔ ایرانی افواج کے مرکزی آپریشن روم خاتم الانبیائ ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم وارننگ دیتے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایک بار پھر غیور ایران کے خلاف حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب ملے گا اور جنگ کی آگ، خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ، مزید وسیع اور زیادہ پھیل جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف حالیہ امریکی دھمکیوں کے پیش نظر ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تیل اور گیس کی برآمد یا تو سب کے لیے دستیاب ہوگی یا پھر یہ کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگی۔

ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر انتہائی شدید وار کرے گا اور وہ بالآخر ایران میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز جزیرہ خارک پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان خلیج میں ان حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جو ایک نازک جنگ بندی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع اور مغربی حکام نے بتایا کہ ابتدائی امن معاہدے کے بارے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات رفتار پکڑ رہے ہیں۔ لیکن اس ہفتے دشمنی کے بڑھنے سے تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے جلد خاتمے کے امکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ٹرمپ نے ایران پر نئے حملے شروع کرنے کی دھمکی اس وقت دی جب دونوں فریقوں نے جمعرات کو مسلسل دوسرے دن فضائی حملوں کا تبادلہ کیا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ آج ایران پر انتہائی شدید وار کرے گا جس کی بحریہ، فضائیہ، راڈار، طیارہ شکن اور دیگر تمام دفاعی نظاموں کے ساتھ ساتھ اس کی زیادہ تر جارحانہ صلاحیتیں بھی ختم ہو چکی ہیں!۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں کسی موڑ پر، ہم جزیرہ خارک اور تیل کے دیگر بنیادی ڈھانچے کے مراکز کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور ان کی تیل اور گیس کی منڈیوں پر مکمل کنٹرول کا اعلان کریں گے۔دشمنی کی تازہ ترین لہروں کے باوجود تین ایرانی ذرائع اور یورپی حکام نے بتایا کہ واشنٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں لیکن کچھ مسائل پر اب بھی تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ ان مسائل میں دسیوں ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande