حماس کے 71 سالہ شریک بانی حسن یوسف اسرائیلی جیل سے رہا
مغربی کنارہ،12جون(ہ س)۔حماس کے شریک بانی حسن یوسف کے بیٹے نے اطلاع دی ہے کہ ان کے والد کو اسرائیل نے رہائی دے دی ہے۔ رہائی جمعرات کے روز کی گئی ہے۔ 71 سالہ حسن یوسف کو بغیر کسی مقدمے اور الزام کے اسرائیلی حکام نے لگ بھگ اڑھائی سال جیل میں بند رکھا۔
حماس کے 71 سالہ شریک بانی حسن یوسف اسرائیلی جیل سے رہا


مغربی کنارہ،12جون(ہ س)۔حماس کے شریک بانی حسن یوسف کے بیٹے نے اطلاع دی ہے کہ ان کے والد کو اسرائیل نے رہائی دے دی ہے۔ رہائی جمعرات کے روز کی گئی ہے۔ 71 سالہ حسن یوسف کو بغیر کسی مقدمے اور الزام کے اسرائیلی حکام نے لگ بھگ اڑھائی سال جیل میں بند رکھا۔البتہ جمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون سے رہا کر دیا گیا ، وہ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین شہید کے ساتھ مل کر حماس کی بنیاد رکھنے والے بعض دیگر اخوان رہنماو¿ں میں سے ایک ہیں۔ رہائی کے بعد انہیں رام اللہ کے ہسپتال میں لایا گیا ہے۔ جہاں ان کے بیٹے اویس یوسف نے ان کی رہائی کی اطلاع دی ہے۔ تاہم ابھی اسرائیلی پولیس نے اس بارے میں خبر رساں ادارے کے کسی سوال کا جواب دینے یا رہائی کی تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے۔

حماس کے شریک بانی رہنما کو انتہائی پیرانہ سال ہونے کے باوجود اسرائیل نے ایک ایسے کالے قانون کے تحت حراست میں لے رکھا تھا جس کے تحت اسرائیلی حکومت جس بھی فلسطینی کو چاہے چھ ماہ کے لیے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے پکڑ سکتی ہے اور بعد ازاں چھ ماہ کے لیے حراستی مدت میں توسیع کرتی رہتی ہے۔اسرائیلی حکام نے حسن یوسف کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے شروع کے دنوں میں ہی گرفتار کر لیا تھا۔ انہیں اس سے قبل بھی بار ہا اسرائیل گرفتار کر چکا ہے۔ اس سے قبل 2020 میں بھی انہیں اسرائیلی جیل سے رہائی ملی تھی۔

حسن یوسف اب فلسطینی غیر فعال اسمبلی کے منتخب رکن ہیں۔ وہ دس سال پہلے اپنے بیٹے مصعب یوسف سے الگ ہو گئے تھے، ان کے بیٹے نے 1997 سے 2007 کے درمیان امریکہ میں منتقلی کر لی اور اسرائیلی اندرونی سلامتی نے اسے حماس کی جاسوسی کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس وجہ سے حسن یوسف نے اپنے بیٹے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande