رجب طیب ایردوان اور نیتن یاہو کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ
انقرہ،12جون(ہ س)۔ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے ایک بار پھر اپنے بیان میں نیتن یاہو پر موجود نسل کشی کے الزامات کو تازہ کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نازی حکمران ہٹلر کے راستے پر چل رہا ہے۔ کہ جس نے نسل کشی کی تھی۔ بچوں کا قتل عام کیا تھا۔یاد رہ
رجب طیب ایردوان اور نیتن یاہو کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ


انقرہ،12جون(ہ س)۔ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے ایک بار پھر اپنے بیان میں نیتن یاہو پر موجود نسل کشی کے الزامات کو تازہ کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نازی حکمران ہٹلر کے راستے پر چل رہا ہے۔ کہ جس نے نسل کشی کی تھی۔ بچوں کا قتل عام کیا تھا۔یاد رہے ترکیہ اور اسرائیل دونوں کے درمیان کمال پاشا کے زمانے سے تعلقات چلے آرہے ہیں مگر غزہ جنگ کے دنوں سے طیب ایردوآن نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سخت مو¿قف اختیار کر رکھا ہے۔

اس لیے سفارتی تعلقات کے باوجود ترکیہ ان چند ملکوں میں شامل ہے جو اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب اور بین الاقومی قانون کے تحت جنگی جرائم میں ملوث سمجھتا ہے۔ ترکیہ کی طرف سے اسرائیل کو تازہ غصے پر مبنی باتوں کا سامنا اس وقت کرنا پڑا ہے جب اسرائیل نے لبنان اور شام کے خلاف تازہ حملے کرنے کے علاوہ ترکیہ کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔خیال رہے اسرائیل اب خطے کا متنازعہ مگر اہم ملک بن چکا ہے۔ کہ یہ جس ملک کو چاہے اور جب چاہے اڑوس پڑوس میں نشانہ بنانے پر خود کو بلا روک ٹوک قادر سمجھنے لگا ہے۔انہوں نے کہا ترکیہ کی سلامتی کے لیے صرف اس کے جنوبی صوبے ہاتھے کی اہمیت نہیں ہے بلکہ ترکیہ کی سلامتی کا دائرہ حلب ، دمشق اور بیروت سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ترکیہ اسرائیل کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ چھیڑ خانی کو برداشت نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسرائیل کی ایسی کوششوں سے صاف نظر آتا ہے کہ اسرائیل نئے زمینی حقائق کی تخلیق کی کوشش میں ہے۔

جوابا اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا جہاں بھی ضرورت سمجھیں گے فوج کارروائیاں کریں گے۔ نیز ایران اور اس کی 'پراکسیز' کے ساتھ بھی سختی سے نمٹتے رہیں گے۔نیتن یاہو نے یہودی مذہب کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کے روائتی طریقے کے تحت کہا طیب یہود دشمن آمر ہے۔جس نے نسل کشی کی ہے۔ حماس کی حمایت کی ہے اور اپنے سیاسی مخالفین کو دبا کر رکھا ہوا ہے۔یاد رہے نسل کشی کی اصطلاح اسرائیل کی غزہ جنگ میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں اب تک 75 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، ان فلسطینی مقتولین میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ یہ نسل کشی کی بدنامی اسرائیل کو اس قدر ملی ہے کہ اس نے اس کا الزام دوسرں کے خلاف بھی شروع کر دیا ہے۔نیتن یاہو نے کہا اسرائیل خطے کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں بھی کارروائی چاہے گا کرے گا تاکہ پراکسیز کا خاتمہ کرتا رہے۔ کہ یہ پراکسیز صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔اس سے پہلے ترکیہ کے صدر نے بھی کہا تھا کہ جو ہٹلر کے راستے پر چلے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا انجام بھی ہٹلر کی طرح ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی موجودہ انتظامیہ کے تحت دنیا کے لیے مصائب کی پیداوار دینے والی ایک فیکٹری بن چکا ہے۔اسرائیل نے 2 مارچ سے جنوبی لبنان میں نئی جنگ کے طور پر بمباری شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ شام کے خلاف بھی اسرائیل کے عزائم نئی ساختہ بفر زون کے نام پر قبضے کے بعد واضح ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل نے حالیہ عرصے میں شام میں سینکڑوں بار بمباری کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande