
نیتی آیوگ اجلاس میں مہاراشٹر کے ہمہ جہت ترقیاتی منصوبے کی پیشکشرائے گڑھ، 12 جون (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’وکست بھارت-2047‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مہاراشٹر حکومت نے تعلیم، صحت، مہارت کی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور ہمہ گیر انسانی ترقی جیسے پانچ اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ بات وزیر اعلیٰ فڑنویس نے نیٹی آیوگ کی گورننگ کونسل کے گیارہویں اجلاس میں مہاراشٹر کی مجموعی ترقی کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔فڑنویس نے کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 14 فیصد حصہ دینے والا مہاراشٹر ہندوستان کی معیشت کا اہم محرک ہے۔ ریاست نے 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر، 2035 تک دو ٹریلین ڈالر اور 2047 تک پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت قائم کرنے کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی-2020 کا مکمل نفاذ کرنے والی مہاراشٹر ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت، خودکار مشینوں کی ٹیکنالوجی، معلوماتی اعداد و شمار کے تجزیے اور جدید ڈیجیٹل نظام کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نوی ممبئی میں عالمی معیار کا تعلیمی شہر قائم کرنے کا کام بھی جاری ہے۔مہارت کی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست میں 3.30 لاکھ سے زائد تربیت حاصل کرنے والے افراد رجسٹرڈ ہیں۔ آئندہ پانچ برسوں میں 1.25 لاکھ نئے صنعت کار تیار کرنے اور 50 ہزار نئی کاروباری اکائیوں کی حوصلہ افزائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔صحت کے شعبے میں آیوشمان بھارت اور مہاتما جیوتی با پھلے جن آروگیہ یوجنا کے تحت علاج کے پیکیجوں کی تعداد بڑھا کر 2,399 کر دی گئی ہے جبکہ 4,537 اسپتال ان منصوبوں سے منسلک کیے جا چکے ہیں۔ ریاست میں 11 نئے سرکاری طبی کالجوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ’’اُمید‘‘ مہم کے تحت 50 لاکھ لکھپتی دیدی تیار کی جا چکی ہیں اور اس تعداد کو بڑھا کر ایک کروڑ تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح ’’لاڈکی بہن‘‘ منصوبے سے اس وقت 1.66 کروڑ خواتین فائدہ حاصل کر رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ خواہش مند اضلاع اور تعلقہ جات کی ترقی، گڑچرولی کے لیے علیحدہ ترقیاتی منصوبہ، سیاحت کے شعبے کی توسیع، مصنوعی ذہانت پر مبنی پالیسی کے ذریعے سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ، نیز صنعت دوست ماحول کی تشکیل کے لیے مختلف اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے