ساڑھے پانچ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد ابھشیک بنرجی دیر رات سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر سے نکلے، 14 جون کو دوبارہ طلب
کولکاتا، 12 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی سے اسمبلی کے مبینہ دستخطی فرضی واڑہ کیس میں جمعرات کو سی آئی ڈی نے قریب ساڑھے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ شام تقریباً 5.50 بجے بھوانی بھون میں واقع سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر پہنچے
سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر میں ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی


کولکاتا، 12 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی سے اسمبلی کے مبینہ دستخطی فرضی واڑہ کیس میں جمعرات کو سی آئی ڈی نے قریب ساڑھے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ شام تقریباً 5.50 بجے بھوانی بھون میں واقع سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر پہنچے ابھشیک رات 11.30 بجے وہاں سے باہر نکلے۔ پوچھ گچھ کے بعد وہ سیدھے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی کالی گھاٹ میں واقع رہائش گاہ پہنچے۔ سی آئی ڈی نے انہیں 14 جون کو دوبارہ حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔

ابھشیک جمعرات کو ہی دہلی سے کولکاتا لوٹے تھے۔ ان کا طیارہ شام 4.20 بجے نیتا جی سبھاش چندر بوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔ وہاں سے وہ سیدھے کالی گھاٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ پہنچے اور بعد میں مقررہ وقت سے پہلے بھوانی بھون پہنچ کر جانچ میں شامل ہوئے۔ تاہم، سی آئی ڈی آفس میں داخل ہونے یا باہر نکلنے کے دوران انہوں نے میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔

اسمبلی میں حزبِ اختلاف رہنما کے انتخاب سے متعلق ایک خط میں مبینہ طور پر فرضی دستخطوں کے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں سی آئی ڈی کئی بار ابھشیک کو طلب کر چکی تھی۔ پہلے انہوں نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے وقت مانگا تھا، جبکہ بعد میں سیاسی پروگراموں کے باعث شہر سے باہر ہونے کی بات کہی تھی۔ اس دوران گرفتاری کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعرات کو کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ابھشیک کو شام 6 بجے تک بھوانی بھون میں حاضر ہو کر جانچ میں تعاون کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال سی آئی ڈی ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کر سکے گی۔ کیس کی اگلی سماعت دو ہفتوں بعد ہوگی اور تب تک ان کے خلاف تادیبی قدم اٹھانے پر روک رہے گی۔

ساعت سے پہلے ابھشیک کے وکیل اور ترنمول رکنِ پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے اس کیس سے خود کو الگ کر لیا۔ انہوں نے عوامی طور پر ابھشیک کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے تلخ تبصرہ کیا، جس سے پارٹی کے اندر اختلافات کی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

ابھشیک کی پیشی کے پیشِ نظر سی آئی ڈی نے بھوانی بھون اور اس کے آس پاس سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔ اضافی پولیس فورس، مرکزی فورسز اور ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے آنسو گیس کے انتظامات بھی کئے گئے تھے۔

تنازعے کی جڑ اس خط کو مانا جا رہا ہے، جسے ترنمول کانگریس پارلیمانی پارٹی کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کو بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں شوبھن دیو چٹوپادھیائے کو حزبِ اختلاف رہنما منتخب کئے جانے کا ذکر تھا۔ الزام ہے کہ خط میں کئی ارکانِ اسمبلی کے دستخطوں میں فرق ہے۔ کچھ ارکانِ اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دستخط نہیں کیے تھے، جبکہ کچھ نام بڑے حروف میں لکھے گئے تھے۔ اسی خط پر پارٹی کے جنرل سکریٹری کے طور پر ابھشیک بنرجی کے دستخط بھی موجود تھے۔

کیس کی جانچ کے تحت سی آئی ڈی پہلے ہی ترنمول کے تین ارکانِ اسمبلی کی ہینڈ رائٹنگ کے نمونے لے چکی ہے۔ جمعرات کو کولکاتا ایئرپورٹ پر ابھشیک کے پہنچنے کے دوران کچھ لوگوں نے ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی، تاہم انہوں نے اس پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande