
۔ 318 معذور افسران و ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی جانچرائے گڑھ/ ممبئی ، 12 جون (ہ س)۔ رائے گڑھ ضلع پریشد میں خدمات انجام دینے والے معذور افسران اور ملازمین کے معذوری سرٹیفکیٹس کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے بعد ضلع پریشد کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے حق کے کارکن سنجے گنگارام ساونت کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ضلع پریشد کے 318 معذور افسران اور ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی جانچ کی گئی، جن میں سے 164 معاملات ابتدائی جانچ میں مشتبہ پائے گئے ہیں۔موصولہ معلومات کے مطابق یہ ملازمین معذوری سرٹیفکیٹس اور یو ڈی آئی ڈی کارڈ کی بنیاد پر حکومت کی مختلف مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان مراعات میں تبادلوں میں ترجیح، ترقی، براہِ راست تقرری اور اضافی سفری الاؤنس جیسی سہولیات شامل ہیں۔ تاہم معذوری کے تناسب اور سرٹیفکیٹس کی قانونی حیثیت کے بارے میں معذوروں کی فلاح و بہبود کے سرکاری محکمے کو متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد انتظامیہ نے ابتدائی جانچ شروع کی تھی۔مشتبہ ملازمین میں جنرل ایڈمنسٹریشن، گرام پنچایت، صحت اور مالیات کے محکموں سے وابستہ افسران اور اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسسٹنٹ ایڈمنسٹریشن افسران، گرام وکاس افسران، ہیلتھ ورکرز، سینئر اور جونیئر اسسٹنٹس کے ساتھ ساتھ چپراسی زمرے کے ملازمین بھی جانچ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کے محکمہ برائے معذوروں کی فلاح و بہبود نے متعلقہ ملازمین کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا ہے۔ اسی کے تحت رائے گڑھ ضلع پریشد کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو آفیسر جالیندر پاٹھارے اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر نہا بھوسلے نے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، تھانے سے مشتبہ ملازمین کا طبی معائنہ کرانے کی درخواست کی ہے۔اس دوران طبی کمیٹی کی حتمی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی ہے اور اب تک کسی بھی ملازم کے خلاف نہ محکمانہ اور نہ ہی فوجداری کارروائی کی گئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اگر کوئی ملازم قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے