
تہران/واشنگٹن/ کویت سٹی/ منامہ، 11 جون (ہ س)۔ امریکہ نے ایران پرایک مرتبہ پھر حملہ کیا۔ امریکی حملوں کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں
سنائی دیتی رہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور امریکہ کے اتحادی ممالک بحرین اور کویت پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں تناو عروج پر پہنچ گیا ہے۔
گلف نیوز، الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے ایران پر پھر حملے کیے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے جمعرات کی صبح کہا کہ امریکی حملوں کے بعد اس نے کویت اور بحرین میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ امریکی مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ سیلف ڈفینس کے لیے حملے جاری رہیں گے۔
سینٹ کام نے کہا کہ امریکہ نے رات بھر پورے ایران پر تازہ حملے کیے۔ اس سے تین ماہ سے جاری تنازعہ کو ختم کرنے کی کوششیں رک گئیں۔ تہران نے انتباہ دیا کہ اب کوئی جہاز ہرمز سے گزر کر دکھائے۔ تہران نے کہا کہ بحرین اور کویت میں جہازوں اور امریکی تنصیابت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واشنگٹن نے کہا کہ اس اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے اور تجارتی ٹینکر گزر رہے ہیں۔
کویت کی فوج نے کہا کہ ملک پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ فضائی دفاعی نظام ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ بحرین پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، علی اور احمد ایئر فورس بیس پر امریکی فوج کے 18 اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو اڑا دیا گیا ہے۔ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کی صبح کہا کہ ملک پر ایران نے ڈرون اور میزائل سے حملہ کیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کل بھی ایران پر حملہ کیا تھا، آج اس سے بھی بڑا حملہ ہوگا۔ امریکہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔ جس دن چاہے گا، قیادت کا جھنڈا اٹھانے والوں کا حشر سپریم لیڈر خامنہ ای جیسا کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی فوج نے ایران کے بندر عباس پر حملہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ جزیرہ قشم اور جنوب کے شہر سیریک اور میناب میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔ اس دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اب ایران کے ساتھ صرف اور صرف بموں سے بات ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن